آنکھ لگ جاتی ہے پھر بھی جاگتا رہتا ہوں میں
آنکھ لگ جاتی ہے پھر بھی جاگتا رہتا ہوں میں نیند کے عالم میں کیا کیا سوچتا رہتا ہوں میں تیرتی رہتی ہیں میرے خوں میں غم کی کرچیاں کانچ کی صورت بدن میں ٹوٹتا رہتا ہوں میں سانپ کے مانند کیوں ڈستی ہے باہر کی فضا کیوں حصار جسم میں محبوس سا رہتا ہوں میں پھینکتا رہتا ہے پتھر کون دل کی ...