نوک شمشیر کی گھات کا سلسلہ یوں پس آئنہ کل اتارا گیا
نوک شمشیر کی گھات کا سلسلہ یوں پس آئنہ کل اتارا گیا میری پہچان کے عکس جتنے بنے کوئی زخمی ہوا کوئی مارا گیا غیر محسوس رستوں سے آتی رہی اک صدا واپسی کی مرے کان میں گویا گونگے اشاروں کی دہلیز پر مجھ کو آنکھوں سے اس دن پکارا گیا یہ نہ پوچھے کوئی موسم رنگ کی پہلی پہلی عداوت نے کیا ...