خون دل منہ پہ آج بہتا ہے
خون دل منہ پہ آج بہتا ہے روبرو حال دل کا کہتا ہے اب تو بے رحم رحم کر اس پر کیا کیا باتیں تری وہ سہتا ہے اک دو گالی ہی دے کے خوش کرنا درد و غم میں سدا وہ رہتا ہے
خون دل منہ پہ آج بہتا ہے روبرو حال دل کا کہتا ہے اب تو بے رحم رحم کر اس پر کیا کیا باتیں تری وہ سہتا ہے اک دو گالی ہی دے کے خوش کرنا درد و غم میں سدا وہ رہتا ہے
درد و غم کچھ بیاں کیا نہ گیا چاک سینے کا پر سیا نہ گیا مر گیا دیکھتے ہی میں افسوس حیف ہے جی بدن میں آ نہ گیا ہاتھ اس بے وفا و بد خو کے دیکھتی آنکھوں جی دیا نہ گیا آہ و افسوس تیرے درد میں دل مر گیا اس ستے جیا نہ گیا شوق میں وصل کے ترے ہر دم جام غم کس ستے پیا نہ گیا بیٹھ اے تنگ دل ...
پانی کی طرح یار کو ہر رنگ میں دیکھا مانند شرر سینۂ ہر سنگ میں دیکھا زلفیں ترے چہرے پہ عجب ڈھب سے کھلی ہیں لپٹا ہوا سنبل گل اورنگ میں دیکھا اس برقعہ کے اٹھنے پہ میں خورشید کو واروں کیا چاند سا منہ کاکل شب رنگ میں دیکھا دے جام چھلکتا ہوا اے پیر خرابات دارو کا نشہ ہم نے تری بنگ میں ...
گرا رہا ہے ترا شوق شمع پر تجھ کو مجھے یہ ڈر ہے نہ پہنچے کہیں ضرر تجھ کو فروغ شعلہ کہاں اور فروغ حسن کہاں ہزار حیف کہ اتنی نہیں خبر تجھ کو تڑپ تڑپ کے جو بے اختیار کرتا ہے نہیں ہے آگ کے شعلہ سے آہ ڈر تجھ کو یہ ننھے ننھے پر و بال یہ ستم کی تپش ملا ہے آہ قیامت کا کیا جگر تجھ کو قریب شمع کے ...
ڈھل گیا دن اور شبنم ہے زمیں پر قطرہ ریز گوشۂ مغرب میں گلگوں ہے شفق سے آسماں پڑ رہی ہیں دور تک سورج کی کرنیں زرد زرد جا رہی ہے تو اکیلی شام کو اڑتی کہاں دیکھتا ہے کیوں عبث صیاد سوئے آسماں یاس کی نظروں سے تیری شوکت پرواز کو ارغواں زار فلک کے منظر خوش رنگ نے کر دیا ہے اور دل کش تیرے ...
اے ستی اے جلوہ گاہ شعلۂ تنویر حسن پاک دامانی کا نقشہ ہے تری تصویر حسن یہ تن نازک ترا یہ شعلہ ہائے آتشیں یہ چتا کی آتش سوزاں یہ جسم نازنیں صاعقہ ہے برق کا تیرے دل مضطر کی آگ پھونک دیتی ہے تجھے سوز غم شوہر کی آگ خاک ہو کر بھی ترے داغ جگر بجھتے نہیں آہ تیری راکھ کے برسوں شرر بجھتے ...
اس باغ میں کس کا پھول چنتے دیکھا سر خاک پہ باغباں کو دھنتے دیکھا بلبل نے تڑپ کے جان دی اے صیاد نالہ نہ یہاں کسی کا سنتے دیکھا
کافور ہے دل جلوں کو تنویر سحر ٹھنڈک ہے کلیجوں کی طباشیر سحر جی انہیں دلوں میں آرزوئیں مر کر کیا روح فزا ہے واہ تاثیر سحر
او چمن کی اجنبی چڑیا! کہاں تھی آہ! تو کیا کسی صحرا کے دامن میں نہاں تھی آہ! تو تیرے دل کش زمزمے تھے سبزہ زاروں میں خموش آشیانہ تھا ترا گلشن میں بزم بے خروش کھینچتی وقت سحر دل کو تری کو کو نہ تھی چھاؤں میں تاروں کی محو نغمۂ دلجو نہ تھی موسم سرما میں اے سرمایۂ صبر و شکیب بے صدا تیرا ...
اے آب رود گنگا اف ری تری صفائی یہ تیرا حسن دلکش یہ طرز و دلربائی تیری تجلیاں ہیں جلوہ فروش معنی تنویر میں ہے تیری اک شان کبریائی جمنا تری سہیلی گو ساتھ کی ہے کھیلی اس میں مگر کہاں ہے تیری سی جاں فزائی بے لوث تیرا دامن ہے داغ معصیت سے موزوں ہے تیرے قد پر ملبوس پارسائی دل بند ہم ہیں ...