شاعری

کوک

مقصد کی آنکھ کا نور آخر ہماری نیتوں میں ہی چمکتا ہے منجمد ہونے کے ڈر سے مجھے آنے والے مہمانوں کا انتظار زیادہ کرنا ہوگا میری حلاوت میری رگوں میں مچل رہی ہے ایک مٹھاس بھری گھلاوٹ جو حلق پر لذت کی دستک دیتی ہے میں فریج میں پڑی اپنی کروٹوں میں اترا رہی ہوں جس کے نقوش بلوریں بوتل پر ...

مزید پڑھیے

میں ناچیز

بہت سے لوگ ہوتے ہیں جنہیں کہنا جنہیں سننا نہیں آتا صدائیں اپنے پہلو کو جھٹک کر کان میں آواز بھرتی ہیں صداؤں کے کٹہرے سے کئی باغی ہمیشہ بھاگ جاتے ہیں میں اپنے وقت کی باغی صدا ہوں اور میرا نام عظمیٰ ہے مجھے نقویؔ بھی کہتے ہیں مجھے حرف ضیا پر جگنوؤں سے داد ملتی ہے مرا ادبی نسب ...

مزید پڑھیے

بے زبان

آج روز گریہ ہے چمچاتی آنکھوں سے اک جہان برسے گا روگ درد اور یہ غم درمیان برسے گا میری بے نوائی پر خاکدان برسے گا اور بے گناہی پر آسمان برسے گا

مزید پڑھیے

سفید سفر

کس قدر گراں ٹھہری موسموں کے ساحل پر آر پار ہوتی دھند آئینے کی قاتل ہے شام میں نکلتی دھند دل ذرا سا بوجھل تھا اس پہ آن ٹھہری ہے پھر سے یہ اکہری دھند آنکھ روزنوں پر ہے کس طرح اتاروں گی وسوسوں کی پھیلی دھند ایک زرد بارش میں اور نیند لائے گی خواب کی سنہری دھند

مزید پڑھیے

آدھی بات

پوری بات کہنے کی کب مجھے اجازت ہے پوری بات سننے کی آپ کو کیا ضرورت ہے آپ علم کے داعی آپ سوچ کے رہبر آپ ہی محبت کے قاعدے بناتے ہیں آپ ہی رفاقت کے سب ہنر بتاتے ہیں آپ کے تبسم کو میں نے گر کبھی کھوجا پچھلے کتنے جنموں کے عشق کے کھنڈر نکلے آنجناب کے سارے درد معتبر نکلے آپ مسکراتے ہیں ...

مزید پڑھیے

میں کہاں خدا ڈھونڈوں

اے مری جبیں سائی میرے زرد سجدوں کا تو ہی کچھ بھرم رکھ لے خشک سرد جنگل میں نارسا ارادوں سے میں کہاں خدا ڈھونڈوں

مزید پڑھیے

آخری تنبیہ

مجھے معلوم تھا تم رستہ بدلو گے تبھی آنکھوں میں خوابوں کو ذرا سی بھی جگہ نہ دی مگر یہ دل مگر یہ دل بہت کمبخت ہے سنتا نہیں میری سو اب جو تم نے اپنی راہ بدلی ہے تو اب معصوم بن کے روتا دھوتا ہے مجھے کہتا ہے پھر آغوش میں لے لو مجھے سینے میں پھر رکھ لو میں اب ہو بات مانوں گا مگر وہ کیا ہے ...

مزید پڑھیے

آخری ملاقاتیں

کتنی اچھی ہوتی ہیں اس سے ہونے والی کچھ آخری ملاقاتیں وقت وہ ہی ہوتا ہے رنگ وہ ہی ہوتا ہے اور بات کرنے کا ڈھنگ وہ ہی ہوتا ہے جاتے ہیں وہیں جس جا پہلی بار دیکھا ہو دور جاتے رشتے بھی ایک پل کو لگتا ہے جیسے پاس آتے ہوں دل دھڑکنے لگتا ہے سرد جسم میں یک دم زیست دوڑ جاتی ہے ایک لمحے کو جیسے ...

مزید پڑھیے

امید

تمہارے من کے آنگن میں خزائیں آ بھی جائیں تو کبھی ویران مت ہونا یہ قدرت کا قرینہ ہے بہاریں آنے سے پہلے خزاں آنا ضروری ہے

مزید پڑھیے

مہندی

میں اس کے نام کی مہندی سجا کر اپنے ہاتھوں پر انہیں تا دیر تکتی ہوں کہ جتنا پیار وہ کرتا ہے رنگ اتنا ہی گہرا ہو مگر یہ دیکھ کر حیران ہوتی ہوں نہ جانے کیوں مرے ہاتھوں پہ ہر مہندی کا رنگ کچا ہی آتا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 84 سے 960