شاعری

علی گڑھ

علی گڑھ ہے یہاں اے دوست کیا پایا نہیں جاتا یہاں وہ کون سا شو ہے جو دکھلایا نہیں جاتا یہ علم و فن کا گہوارہ ہے تہذیبی ادارہ ہے نظر میں یہ ہماری تو سیاست کا اکھاڑا ہے ہر اک شعبے میں پاؤ گے یہاں تم پارٹی بازی یہاں رہتی ہے آپس میں ہمیشہ ترکی و تازی خدا کے فضل سے اہل ہنر ہیں اہل فن سب ...

مزید پڑھیے

سنو سہیلی

سنو سہیلی کہوں پہیلی ہے جو کوئی بوجھے سوچو سمجھو اور پھر پوچھو اگر تمہیں نا سوجھے سوچ سمجھ کر کہنا سننا اپنا ایک اصول پھولوں میں ہے سب سے پیارا بھلا کون سا پھول سوسن ٹیسو کمل موتیا رات کی رانی چمپا نہ نہ سورج مکھی چنبیلی دن کا راجہ گیندا ان کا کیا ہے مرجھائیں تو خاک بنیں یا ...

مزید پڑھیے

خدا کے قاتل

وفا کے پیمان سب بھلا کر جفائیں کرتے وفا کے قاتل رسول حق کے جو امتی ہیں وہی ہیں آل عبا کے قاتل یہ اس کی اپنی ہی مصلحت ہے وہ جسم رکھتا نہیں ہے ورنہ یہ منصبوں کے غصب کے عادی ضرور ہوتے خدا کے قاتل نہ ہی امانت نہ ہی دیانت نہ ہی صداقت نہ ہی شرافت نبی کے منبر پر آ گئے ہیں نبی کی ہر اک ادا ...

مزید پڑھیے

وبا کے دنوں میں

زمین گونگی ہو رہی ہے پرندے چپ سادھے اجڑی شاخوں پہ بیٹھے نوحہ کناں ہیں رات کے بدن پہ نیند کے پیالے اوندھے پڑے بلک رہے ہیں عورتوں کے رحم میں زندہ لاشوں کے گلنے سڑنے سے تعفن پھیل رہا ہے خواب بستیاں اجڑ رہی ہیں سمندروں نے دیکھا موت دانت نکوستی دندناتی پھرتی ہے بڑھیا کھڑکی سے ...

مزید پڑھیے

قیدی

وہ میرے غصے کا ایک لمحہ جو ٹل نہ پایا تھا دل کے معبد میں اک خداوند اسی کو سولی پہ مار ڈالا کرن امیدوں کی راکھ کر دی مسرتوں کی تمام کلیاں خود اپنے پیروں سے روند ڈالیں مگر یہ قطرے لہو کے قطرے درون سینہ ٹپک رہے ہیں گواہ ہوں گی یہ زرد آنکھیں کہ میرے دل میں عجب جہنم بھڑک رہا ہے جو ہو رہا ...

مزید پڑھیے

اگلا صفحہ

تخلیق کے خمار میں چور ایک خوش گوار موڑ میں اس نے جب بے حساب لوگوں کے نصیب میں خوشیاں لکھ ڈالی ہوں گی بے شمار تب اس نے رک کر سوچا ہوگا توازن کی خاطر کچھ تو تبدیلی چاہیے اور یوں اس موڑ میں لکھ کر اگلا نصیب اس نے جو پلٹا صفحہ وہ میرا تھا

مزید پڑھیے

ہندو اور مسلمان

فخر وطن ہیں دونوں اور دونوں مقتدر ہیں ہیں پھول اک چمن کے اک نخل کے ثمر ہیں اے قوم تیرے دکھ کے دونوں ہی چارہ گر ہیں دونوں جگر جگر ہیں لیکن دگر دگر ہیں آپس کے تفرقوں سے ہیں آہ خار دونوں اغیار کی نظر میں ہیں بے وقار دونوں مل کر چلو کہ آخر دونوں ہو بھائی بھائی بھائی سے کیا لڑائی بھائی ...

مزید پڑھیے

بسنت اور ہولی کی بہار

ساقی کچھ آج تجھ کو خبر ہے بسنت کی ہر سو بہار پیش نظر ہے بسنت کی سرسوں جو پھول اٹھی ہے چشم قیاس میں پھولے پھلے شامل ہیں بسنتی لباس میں پتے جو زرد زرد ہیں سونے کے پات ہیں صدبرگ سے طلائی کرن پھول مات ہیں ہیں چوڑیوں کی جوڑ بسنتی کلائی میں بن کے بہار آئی ہے دست حنائی میں مستی بھرے ...

مزید پڑھیے

چلو تجویز کرتے ہیں

کسے تعمیر ہونا ہے کسے مسمار رہنا ہے کسے خواب مسلسل کی فضا بندی میں جینا ہے کسے نیندوں سے ہٹ کر آنسوؤں سے ہجر کو آسان کرنا ہے کسے خاموش رہنا ہے کسے اعلان کرنا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 83 سے 960