شاعری

گزارش

سنو بیزار سا رہنا کسی کی بات نہ سننا کسی کا بھی کہیں پر بھی کوئی احساس نہ کرنا بہت سجتا ہے تم پہ پر تمہارے ایسا کرنے سے جسے تم اپنا کہتے ہو وہ تم سے روٹھ جاتا ہے تمہاری بے نیازی سے مرا دل ٹوٹ جاتا ہے

مزید پڑھیے

پاگل لڑکی

اپنی محبت کے ہاں کرنے چھپ کے نکاح کے دو بولوں پر خوش ہونے اور اس ہی خوشی میں اپنے ہاتھوں کو مہندی سے رنگنے والی ہر پل شوخی سے مسکاتی پاگل لڑکی اس مہندی کا رنگ پھیکا پڑنے سے پہلے تیرے سیاں چھوڑ کے بیاں اپنی ایک نئی دنیا میں مگن ہوئے ہیں اک دو دن میں تجھ سے جو کچھ لینا ہے وہ سب کچھ لے ...

مزید پڑھیے

ایک خواب

گزشتہ شب میں نے ایک خواب دیکھا کھلا اپنے گھر کا ہر ایک باب دیکھا خوابوں میں ہی کھل گئی نیند میری بغل میں کھڑا ایک ماہتاب دیکھا منور بہت تھا بہت ہی کشش تھی عجب اس میں رنگت عجب تاب دیکھا پھر کھلی آنکھ میری تو کچھ بھی نہیں تھا میں تنہا تھا لیکن میں تنہا نہیں تھا تصور میں تھا پر تھا ...

مزید پڑھیے

شہید بھگت سنگھ

زنداں میں شہیدوں کا وہ سردار آیا شیدائے وطن پیکر ایثار آیا ہے دار و رسن کی سرفرازی کا دن سردار بھگت سنگھ سردار آیا تا دار و رسن شوق سے اٹھلا کے گیا تو شان شہادت اپنی دکھلا کے گیا ٹکڑے ہوتا ہے دل ترے ماتم میں لاشے کا انگ انگ کٹوا کے گیا پی کر مئے شوق جھومنا وہ تیرا بے پروایانہ ...

مزید پڑھیے

وقت کی پابندی

سورج کے دم قدم سے روشن جہاں ہے سارا ہے اس کی روشنی سے دل کش ہر اک نظارا سورج اگر نہ ہوتا کچھ بھی یہاں نہ ہوتا سبزے کا پھول پھل کا نام و نشاں نہ ہوتا سورج کی روشنی سے ہر چیز خوش نما ہے گو وقت کا ہے خالق پابند وقت کا ہے دل کش ہے چاند کیسا ہر اک کو بھانے والا ہنس ہنس کے آسماں سے دل کو ...

مزید پڑھیے

نورجہاں کا مزار

دن کو بھی یہاں شب کی سیاہی کا سماں ہے کہتے ہیں یہ آرام گہہ نورجہاں ہے مدت ہوئی وہ شمع تہ خاک نہاں ہے اٹھتا مگر اب تک سر مرقد سے دھواں ہے جلووں سے عیاں جن کے ہوا طور کا عالم تربت پہ ہے ان کے شب دیجور کا عالم اے حسن جہاں سوز کہاں ہیں وہ شرارے کس باغ کے گل ہو گئے کس عرش کے تارے کیا بن ...

مزید پڑھیے

بادل اور تارے

ختم ہوا دن سورج ڈوبا شام ہوئی اور ابھرے تارے جگمگ جگمگ کرتے آئے نور کے ٹکڑے پیارے پیارے دور کہیں سے ٹھنڈے ٹھنڈے تیز ہوا کے جھونکے آئے کاندھوں پر اپنے وہ اٹھا کر چھوٹے چھوٹے بادل لائے ان کو دیکھ کے اور بھی برسا نور مسرت کا تاروں سے کوئی چھپا اور کوئی نکلا بادل کے ان انباروں ...

مزید پڑھیے

چھبیس جنوری

یہ دور نو مبارک فرخندہ اختری کا جمہوریت کا آغاز انجام قیصری کا کیا جاں فزا ہے جلوہ خورشید خاوری کا ہر اک شعاع رقصاں مصرع ہے انوری کا روز سعید آیا چھبیس جنوری کا دور جدید لایا بھارت کی برتری کا بھارت کی برتری میں کس کو کلام ہے اب تھا جو رہین پستی گردوں مقام ہے اب جمہوریت پہ قائم ...

مزید پڑھیے

خاک ہند

انجم سے بڑھ کے تیرا ہر ذرہ ضو فشاں ہے جلووں سے تیرے اب تک حسن ازل عیاں ہے انداز دل فریبی جو تجھ میں ہے کہاں ہے فخر زمانہ تو ہے اور نازش جہاں ہے افتادگی میں بھی تو ہم اوج آسماں ہے ''اے خاک ہند تیری عظمت میں کیا گماں ہے'' وہ کج کلاہ تیرے وہ سورویر تیرے وہ تیغ زن کماں کش وہ قلعہ گیر ...

مزید پڑھیے

پھول برساؤ شہیدان وطن کی خاک پر

جن سر افرازوں کی روحیں آج ہیں افلاک پر موت خود حیراں تھی جن کی جرأت بے باک پر نقش جن کے نام ہیں اب تک دل غم ناک پر رحمت ایزد ہو دائم ان کی جان پاک پر پھول برساؤ شہیدان وطن کی خاک پر پھول برساؤ کہ پھولوں میں ہے خوشبوئے وفا تھی سرشت پاک ان کی عاشق جوئے وفا موت پر ان کی گئے جو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 85 سے 960