شرارتی چاند
بڑا شرارتی ہے یہ چاند بھی جلانا ستانا ترسانا شوق ہیں اس کے اور لکا چھپی اس کی فطرت اس پر حماقت یہ کہ نگل جاتا ہے کبھی کبھی سورج کو بھی غنیمت ہے جو آسمان میں ٹھکانا ہے اس کا محفوظ ہے وہاں جو زمیں پر ہوتا تو کس کس سے مناتا اپنی خیر
بڑا شرارتی ہے یہ چاند بھی جلانا ستانا ترسانا شوق ہیں اس کے اور لکا چھپی اس کی فطرت اس پر حماقت یہ کہ نگل جاتا ہے کبھی کبھی سورج کو بھی غنیمت ہے جو آسمان میں ٹھکانا ہے اس کا محفوظ ہے وہاں جو زمیں پر ہوتا تو کس کس سے مناتا اپنی خیر
ہاتھوں میں جام اور ہوش کی بات کریں ارے کچھ تو ہوش کی بات کر ساقی پیمانہ بھی نہ چھلکے اور سرور چڑھے اپنی آنکھوں سے کچھ تو کام لے ساقی پہرہ نقاب کا اور یہ تیری بے باکی دونوں میں کوئی تو اتفاق رکھ ساقی کب سے بیٹھے ہیں لٹانے یہ دل و جاں اپنی اداؤں کو اب تو انجام دے ساقی صبح کر ...
جانے کیا بات تھی اس خریدار کی بولی میں وہ بھاؤ بڑھاتا گیا اور ہم بیش قیمتی ہو گئے
نہ تیرا کوئی بسیرا نہ میرا کوئی ٹھکانا چل مل کے ڈھونڈتے ہیں کوئی نیا آشیانا ایک ہی کشتی کے ہم دونوں ہیں مسافر جو تیرا ہے فسانہ وہی میرا بھی افسانہ سنتے ہیں بانٹنے سے ہوتے ہیں کچھ تو غم کم وہ مجھ سے سے کہہ رہا ہے ذرا تم بھی آزمانا حیرت یہ ہو رہی ہے کیوں مل رہی ہے راحت جب اس کے بھی ...
کبھی میری مصروفیت تو کبھی تیرے پاؤں کی موچ کبھی چیونٹی کی طرح رینگتا ٹریفک کبھی نکھٹو زمانے کی سوچ کبھی سمے کا اڑیل پن تو کبھی موقعے کی نزاکت کبھی میں نہیں تو کبھی ندارد بس ہو گیا چلو خوابوں میں ملتے ہیں نیند کو بھی تو اپنا فرض نبھانے دو
گھر میں تھی شادمانی اک جشن کامرانی دیکھا جو یہ تماشا امی سے میں نے پوچھا امی یہ بات کیا ہے کیوں جشن ہو رہا ہے امی یہ ہنس کے بولی تو تو بڑی ہے بھولی تجھ کو خبر نہیں ہے بھیا کی کل ہے شادی آئے گی تیرے گھر میں کل ایک شاہزادی میں جانتی نہیں تھی ہوتی ہے کیا یہ شادی اتنا مگر پتا تھا یہ ...
رفتہ رفتہ سب آوازیں جو دل کے اندر ہیں اور باہر اک ایسے سکتے میں کھو جائیں گی جس کا مفہوم ابھی تک کسی اشاعت گھر کے حرفوں میں ڈھلا نہیں ہے آثار قدیمہ کے ماہر مدفون پرانے شہر کے اندر باہر سے کھود چکے ہیں لیکن اس کا مفہوم ابھی تک کسی عمارت کی شاہ گردش کی محرابوں میں اور کسی چار آئینے ...
میں سرد مہر زندگی سے کیا طلب کروں طلب تو ایک بحر ہے زندگی تو سانس کی لپکتی ایک لہر ہے جو آ کے پھر گزر گئی چند سال اس کے نقش پا یہیں کہیں کسی کے ذہن میں رہے میں دیکھتا ہوں شاخ عمر زرد موسموں کی دھوپ میں اسی خیال خام میں کہ وقت گھڑی کی قید میں ہے برگ برگ جھک گئی ہے زندگی نے کیا دیا ...
مرا مقدر عجیب ہے میں طویل راتوں کا وہ دیا ہوں جو اک لگن سے ضمیر مجرم کے خواب میں کپکپا رہا ہوں اسے ملے گی نجات مجھ کو پتا نہیں ہے میں تیرگی کا تضاد ہوں اور ضمیر مجرم کا خواب ہوں
کس تصور کے رقص میں گو تری صدا کا وجود مجھ کو ملا نہیں ہے کسی کتاب کہن میں چلتی عظیم دانش کے نقش پا میں ترے بدن کا نشان مجھ کو ملا نہیں ہے میں چار سمتوں سے پوچھتا ہوں عناصروں کے تغیروں سے میں سلطنت کے نجومیوں سے یہ پوچھتا ہوں کہ کون ہے تو جو میرے خوابوں کے سلسلے میں مرے تفکر کے ...