شاعری

خوش آمدید

جب کوئی کام نہ ہو تب بھی مجھے سوچتے رہنے کا اک کام تو ہے راحت و درد سے مبسوط کوئی نام تو ہے یوں ہی بیٹھا تھا میں اس نام سے وابستہ محبت کے، اداسی کے دریچے کھولے اتنی چپ تھی کہ خیالات کی چاپ اپنا احساس دلاتی تھی مجھے بے کلی حسب طلب اس نے نہ مل سکنے کی حسب معمول ستاتی تھی مجھے اور پھر ...

مزید پڑھیے

چاند ہم دونوں سے مشابہ ہے

گزشتہ رات پورے چاند کی شب تھی پس دہلیز تم تھیں اور میں نا خواستہ قدموں سے باہر کی طرف جاتے ہوئے آنکھوں ہی آنکھوں میں تمہیں خود میں سموتا جا رہا تھا بھلا کب تک یہ منظر ساتھ دیتا! 'خدا حافظ' کے لمحے بعد دروازہ مقفل ہو چکا تھا اور آنکھوں کی رسائی سے تمہارا جگمگاتا حسن اوجھل ہو چکا ...

مزید پڑھیے

تمہاری پوروں کا لمس اب تک.....

میں زندگی کی کڑی مسافت تمہاری چاہت ملے بنا بھی مجھے یقیں ہے کہ کاٹ لوں گا میں ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جنہوں نے اپنی تمام عمریں سراب سایوں کی جستجو میں یہی سمجھ کر گزار دی ہیں کہ چاہتوں کے یہ خواب لمحے یہ فرقتوں کے عذاب لمحے کبھی بنیں گے گلاب لمحے یہ لوگ وہ ہیں کہ جن کے یادوں کے ...

مزید پڑھیے

یہی تم پر بھی کھلنا ہے

اچانک آج مجھ کو راستے میں مل گیا تھا وہ تمہارا نام لیتا تھا مجھے کہنے لگا، انجم خدا لگتی کہو، تم نے بھی اس مہ رو کو دیکھا ہے تمہاری آنکھ بھی تو حسن کا ادراک رکھتی ہے تمہیں بھی آشنائی ہے کہ خد و خال کن کن زاویوں سے حسن کی تشکیل کرتے ہیں تو کیا جو حال ہے میرا بھلا کچھ اور ہوتا ...

مزید پڑھیے

اعتراف

ہر شاخ تمنا پر میری ہر چند کہ برگ و بار لگے وہ پیڑ جو میرے نام کا ہے، ہر آنکھ کو سایہ دار لگے پر، ایک کمی سی رہتی ہے کچھ وقف تبسم ہونٹ بھی ہیں، کچھ رستہ تکتی آنکھیں بھی کچھ وہ ہیں جن سے ملنے کو بے تاب ہوں میری بانہیں بھی پر، ایک خلش سی رہتی ہے یہ داد و ستائش کے تمغے، کچھ شعروں پر، ...

مزید پڑھیے

وہ لمحہ

تمام زندگی پر وہ ایک لمحہ بھاری ہے جس لمحے تیری نگاہ مجھ پہ طاری ہے بس میں ہوتا تو روک لیتے اس لمحے کو آج تک چھائی ہم پر وہ خماری ہے جنت بھی مل گئی تو کہہ دیں گے یہ خدا سے ہم اس لمحے کو دہرا دے پھر جہنم کی گلیاں بھی ہمیں پیاری ہیں ہاں خود غرض ہیں تو اتنا شور کیوں مچاتے ہو زندگی ...

مزید پڑھیے

کتھئی شام

ایک کتھئی شام ہواؤں میں عطر گھول گیا کوئی لکھنے خوابوں کو پلکیں جو موندیں کہ کاجل لگا گیا کوئی صبح ہنستی تھی اور رات بھی تھی گنگناتی پر اف اس کی وہ ظالم ادا بے وجہ مسکرانے کا سبب دے گیا کوئی منزل تھی دور اور نہ تھا کوئی ہم سفر ایسی سنسان راہوں میں مجھ سے میری پہچان کرا گیا ...

مزید پڑھیے

میری خود غرضی

بڑا معصوم ہے وہ کہتا ہے ہر منکے کے ساتھ مانگتے ہو میری ہی سلامتی کی دعا رب سے کبھی اپنے لیے بھی کچھ مانگ لو بہت سنتا ہے وہ تمہاری وہ معصوم کیا جانے میری خود غرضی

مزید پڑھیے

میری سلطنت

توڑ کر ہزار ٹکڑوں میں مجھے بیٹھے ہو کب سے مجھ پر نظریں گڑائے کہ اب بکھروں اور تب بکھروں توڑنا تمہاری سرحد میں تھا اور بکھرنا میری ہر جگہ تمہاری حکمت نہیں ہے میری جان

مزید پڑھیے

میری خوش فہمی

مکمل تھی زندگی تھے راستے خوش نما نہ تھی منزل کی پرواہ چن لی اپنی مرضی کی ڈگر اور میں ہی میرا ہم سفر خود کی صحبت سے بہتر بھلا اور کون نہ کوئی اختلاف ہر حال میں رضا جہاں میں لے چلوں خود کو بس مزا ہی مزہ نہ سمے کی کمی نہ کسی کا انتظار جہاں جی چاہا ڈال دیا پڑاؤ منزل وہیں جہاں رک گئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 820 سے 960