شاعری

ایک تیر اپنے لئے

اس کون و مکاں کی دہلیز عبور کرنے سے پہلے شرابور بدن کو پونچھے بغیر اپنی مصیبتوں کا زمیں ایسا بوجھ اتارے بغیر ہم اپنے لہو کا محصول ادا کر چکے ہیں ہم جو ستارہ شناس ہیں ہم جو پرندوں کی یک اڑان سے موسموں کا مزاج بھانپ لیتے ہیں ہم جو آئینوں میں چٹختی ہوئی تہذیبوں کی تشخیص کا راز جانتے ...

مزید پڑھیے

خاموشی کا شہر

ہوا دھند کے پھیلے لب چومتی ہے کہاں زندگی ہے؟ کہاں زندگی کے نشاں ہیں کہ تم شہر میں ہو جہاں ایک ہی روپ ہے جو ہمیشہ رہے گا اٹھو باؤلے اب تمہیں کس تمنا نے منزل کا دھوکا دیا ہے کہ تم سانس کی اوٹ میں چپ کھڑے سوچتے ہو یہاں ہر نفس بے صدا ہے یہاں ہر گھڑی اب سسکتی سی زنجیر ہر اک وفا تیرگی کا ...

مزید پڑھیے

ایک نظم

میں حیات مہمل کی جستجو میں سفر زمانے کا کر چکا ہوں میں اک جواری کی طرح ساری بساط اپنی لٹا چکا ہوں میں آدمی کے عظیم خوابوں کی سلطنت بھی گنوا چکا ہوں نہ جیب رخت سفر کا تحفہ لیے ہوئے ہے نہ ذہن میرا کسی تصور کا دکھ اٹھانے کسی محبت کا بوجھ سہنے کے واسطے اختلال میں ہے میں فاتح کی طرح چلا ...

مزید پڑھیے

اک بے کشش نظم

پہلے کشش عورت میں تھی پھر کشش لفظوں میں تھی اب لفظ عورت بے کشش لہروں تک زمین و آسماں کو دیکھتے ہیں کائناتی سلسلوں میں سلسلہ وہ ڈھونڈتے ہیں جو ہمیں ویران کر کے جا چکا ہے

مزید پڑھیے

مہاجر پرندوں کا سواگت

دنیا میں اپنا سارا حسن تیری ہتھیلی پر رکھ دیتا ہوں اور تو اپنا سارا زہر میرے اندر انڈیل دیتی ہے جانتی ہے ناں میں زیادہ دیر خالی نہیں رہ سکتا میری گونج مجھے اپنی لپیٹ میں لیے رکھتی ہے سہما پڑا رہتا ہوں دیر دیر تک اپنے ہی اندر اپنے خالی پن کے سناٹے میں یا پھر دھما چوکڑی کرتی ان کہی ...

مزید پڑھیے

گریہ

تمہارے دکھ نے میرے اندر ایک شہر ماتم دریافت کیا جہاں ہر روز میرے جنم پر جشن گریہ منایا جاتا ہے تم اپنی ہنسی کا تحفہ کالی اینٹوں سے بنائے گئے اس طاق میں رکھ دو جہاں چراغ کی خاموشی اور رات کی سسکیاں سانپوں کی طرح سرسراتی ہیں ہاں!! سانپوں سے یاد آیا آج سانپوں سے وصال کی رات ہے آنسو ...

مزید پڑھیے

ٹوٹے ہوئے پیالے

میں خدا کے ہاتھوں سے گر کر ٹوٹا ہوا پیالہ ہوں (جو اپنے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو... ڈھونڈھتا پھرتا ہے) کبھی کبھی (بہت کبھی کبھی) کوئی ٹکڑا مل کر اپنی ٹوٹی ہوئی جگہ سے جوڑ بناتا ہے تو ازلی تسکین اور ابدی سرشاری کا احساس ملتا ہے جیسے کہ تم! ہاں پیارے! جیسے تم ملتے ہو تو کچھ ایسا ہی لگتا ...

مزید پڑھیے

انحراف

میں خواجہ سراؤں کے شہر میں پیدا ہوا میں اپنی تکمیل کا لگان کس کس کو دوں ماں آٹا گوندھ کر بھوکی سو گئی اور میں نے مٹی گوندھ کر اپنے لیے ایک خدا بنا لیا سجدہ میری پیشانی کا زخم ہے مگر میرا مرہم سفر سقراط کے پیالے میں پڑا ہے خدا کا بوسہ میرا پہناوا تھا مجھے بے لباس کر کے کٹہرا پہنا ...

مزید پڑھیے

سارہ شگفتہ

کبھی خدا سے مل کر انسان سے ملنا خدا کا مکر ہے انسان! میرے تو سارے ثواب انگلیوں کی پوروں سے جھڑ گئے اور گناہ ہیں کہ سینے میں دھڑکتے چلے جاتے ہیں تھوڑا صبر چکھو! لذت پکی پکائی روٹی نہیں جسے چنگیر میں رکھ کر تمہیں پروس دوں! تم تو سرما کے لحاف میں بھی ٹھنڈے پڑ رہے ہو!! دانتوں کو پسینہ ...

مزید پڑھیے

آئندگاں کی اداسی میں

جب دنیا میرے دکھ بٹانے آئی میرے سارے دکھ چرا لیے گئے تھے بھری بہار میں میرے آنسوؤں کے بیج جلائے گئے ہیں آج دیر بعد نئی محبت کو منسوخ کر کے پہلی تنہائی سے لپٹ کر سونا اچھا لگا ہے آئندگاں کی اداسی لپیٹ کر ایک پرانی محبت کا پرسا وصول کرتے ہوئے بھی دل نہیں بھرا جذبوں کی کتر بیونت اور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 822 سے 960