ایک تیر اپنے لئے
اس کون و مکاں کی دہلیز عبور کرنے سے پہلے شرابور بدن کو پونچھے بغیر اپنی مصیبتوں کا زمیں ایسا بوجھ اتارے بغیر ہم اپنے لہو کا محصول ادا کر چکے ہیں ہم جو ستارہ شناس ہیں ہم جو پرندوں کی یک اڑان سے موسموں کا مزاج بھانپ لیتے ہیں ہم جو آئینوں میں چٹختی ہوئی تہذیبوں کی تشخیص کا راز جانتے ...