شاعری

سوتے جاگتے درد

شام کی گود سے درد لے لے کے انگڑائی اٹھنے لگا نیستی ہے کسک دل میں جاگی تڑپ ذہن کے دشت میں یاد کے کارواں چل پڑے رات ہے مہرباں تھال دیپک کے سر پہ اٹھائے ہوئے چہرہ کالی ردا سے چھپائے ہوئے ساتھ میں چل پڑی صبح سورج کی پہلی رو پہلی کرن شب کے چہرے سے چادر ہٹائے گی جب نور اپنا وہ دن پر لٹائے ...

مزید پڑھیے

واپسی

نرم ریت پر معصوم بچوں کی طرح دوڑتے ہوئے اس نے میری طرف دیکھا اور شرارت سے مسکرایا آتی جاتی لہروں سے اٹھکھیلیاں کرتے ہوئے اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور سمندر میں کھینچ لیا میں شرمائی عمر نے سہ پہر کا لبادہ اتار دیا سنجیدگی پانی میں اتر کر شوخ ہو گئی اس روز گوا کے ساحل پر ہماری میری اور ...

مزید پڑھیے

چلے آنا

یہ سچ ہے تم جہاں ہو وہ جگہ جنت کی مانند ہے وہاں کے نقرئی دن میں دوالی جیسی راتیں ہیں سنہری زندگی کا لمحہ لمحہ جگمگاتا ہے مگر شاید کسی پل کے کسی ننھے سے لمحے میں اگر چھو کر گزر جائے تمہیں ممتا کا اک جھونکا اگر ماں کی محبت اشک بن کر آنکھ چھلکائے گزشتہ ساتھ گزری ساعتوں کی یاد آ ...

مزید پڑھیے

انتظار

کبھی تم ہنس پڑو کبھی میں ہنس رہوں کہ ہم سب ایک ہی ڈالی پہ اپنے اپنے لمحے میں مہکنے اور مرجھانے کی خاطر پھول ہیں جدھر آ جائے موج روح پرور پتیاں چمکیں فضا مہکے مگر کب آئے کس جانب یہ گہرا راز ہے شاید کبھی چلتے ہوے دھارے میں کوئی سبزہ اگ آئے کوئی آواز خاموشی میں اپنے پر ہلائے مگر ...

مزید پڑھیے

موت کا انتظار سفید چاک سے

موت کا انتظار سفید چاک سے آسمان کے سیاہ ماتھے پر دو نام ایک اللہ کا ایک رسول کا پھر سفید چاک دونوں ہونٹوں کے درمیان اس کا دودھ شیر اور شہد ملا بائیں جانب مڑ کر ایک دیوار پر کارل مارکس کا نام اس پر اگی ہوئیں خوفناک زبانیں اور اس کے اطراف کھلے ہو بجلی کے تار سانپ لپلپاتے ...

مزید پڑھیے

نرم آوازوں کے بیچ

نرم آوازوں سے اک نیلی خموشی ہے رواں یک بہ یک اڑ گئے وہ کالے پرند جن کے سایوں سے شعاعوں میں تھی اک بے خوابی اب وہی خفتہ مزاجی وہی بے حرف خمار نرم آوازوں کی تھپکی سے یہ سب ہوش و حواس اپنے اظہار کے بہتے ہوئے دریا کی جگہ برف کی جھیل بنے چیخ جو نغمۂ آزاد سی لہراتی تھی نغمہ میں غرق ...

مزید پڑھیے

اب رات آرہی ہے

چلو اب دعا کرو نظمیں پڑھو وصال کی سب آیتیں پڑھو کیا رہ گیا ہے شام کا اب رات سے فراغ جب حرف خون داغ آندھی میں ایک نیم نفس بے ہوا چراغ ان قہقہوں کو روک لو اک شب کی بات ہے میں سوچتا ہوں چپ رہوں لیکن تمہیں بتاؤ کیا یہ حیات ہے

مزید پڑھیے

خوف

ایک سایہ سا در آیا کوئی نیلا سایہ کانپ اٹھی شاخ نحیف کانپ اٹھی ایک نئی سی آہٹ رات بڑھتی رہی مسموم سیاہ سیل سے بچ کے اکیلا میں کہاں بیٹھا ہوں جسم سے نقطے میں تبدیل ہوا جاتا ہوں

مزید پڑھیے

کھوکھلے برتن کے ہونٹ

کھوکھلے برتن کے ہونٹ صدا کے کھوکھلے بت پر وہ اپنی انگلیاں گھستے رہیں گے اندھیرے نرخرے سے بس ہوا کی رفت و آمد کا نشاں معلوم ہوتا ہے زباں پر سبز دھبے پڑتے جائیں گے چمکتے سبز دھبوں میں ٹھٹھرتے آئینے نیلی دعاؤں کے کوئی یہ ان سے کہہ دو کہ آوازیں کھڑکنے کے سوا یا دھڑدھڑانے شور اٹھنے ...

مزید پڑھیے

شام کا رقص

یک بہ یک دھوپ نیچے گری جیسے چینی کی اک طشتری ہاتھ خاموش ساعت کے آگے لرزنے لگا اور کہنے سے ہونٹوں کے اندر چھپی برق آ کر چمکنے لگی آشیاں جل گیا شام کا رقص میدان ہنگامۂ خوف میں گرم ہوتا رہا پنکھڑی پنکھڑی قطرہ قطرہ اترتا رہا میں کہ دیوار کے سامنے دھوپ کا تیز جھونکا بنوں آگ کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 789 سے 960