شاعری

دیکھا جنگل

چم چم چیتے کافی پیتے ہاتھی ڈولے انگلش بولے شیر براجے نوبت باجے مور نہ مانے چھتری تانے نکلے ہرنے جلوہ کرنے آئے بھالو اوڑھے شالو

مزید پڑھیے

عید مبارک ہو

رب نے رکھا مان عید مبارک ہو سب اس کا احسان عید مبارک ہو دیکھو نکلا چاند گلی میں شور ہوا جاری ہے اعلان عید مبارک ہو روزے ہوں مقبول دعا کی ساعت ہے لو جی کھاؤ پان عید مبارک ہو مہکے میٹھے رنگ ہوا میں شامل ہیں اڑتی ہے مسکان عید مبارک ہو اپنوں سے یوں کوئی روٹھا کرتا ہے طارقؔ میری ...

مزید پڑھیے

نیند آتی نہیں

اے ہوا گنگنا کوئی لوری سنا نیند آتی نہیں کس نے دیکھی پری اڑنے والی دری خواب کس نے بنا کون راجا ہوا رنگ کس نے چھوا روپ کس نے چنا کیسے اتری دھنک پھول سے پھول تک کس نے ریشم دھنا اے ہوا گنگنا کوئی لوری سنا نیند آتی نہیں

مزید پڑھیے

طوطے میاں

طوطے میاں اچھے تو ہو مرچیں ہری کھاتے تو ہو اسکول کو جاتے تو ہو نظمیں نئی گاتے تو ہو گا گا کے اتراتے تو ہو آ کر کبھی ہم سے ملو آنگن میں تم آتے تو ہو طوطے میاں اچھے تو ہو

مزید پڑھیے

من لہرایا

بادل اوپر بادل آیا چھاجوں برسا ایسے چھایا رت لہرائی من لہرایا ہم نے اپنی بدلی کایا کھیلے کودے رنگ جمایا بھیگے بھاگے خوب نہایا بھٹے والا بھٹے لایا دیکھ کے جس کو جی للچایا آگ میں بھونا نمک لگایا لیموں ڈالا مزے سے کھایا

مزید پڑھیے

ضد نہیں کرتے میری جان

میں بندی قربان ضد نہیں کرتے میری جان کھیل کھلونے کاٹھ کے بونے سب کے سب حیران ضد نہیں کرتے میری جان رونی صورت کیا سوچیں گے گھر آئے مہمان ضد نہیں کرتے میری جان دادی نے فرمائش پوری کر دی آن کی آن ضد نہیں کرتے میری جان لو بیٹھک میں دوڑ کے دے آؤ دادا کو پان اب تو ہنس دو میری جان

مزید پڑھیے

مسٹر یاہو

یاہو مست قلندر یاہو ملیے آپ ہیں مسٹر یاہو کام ہے ان کا کرتب بازی ہیں سرکس میں جوکر یاہو پل میں حاضر پل میں غائب جیسے جادو منتر یاہو پڑی ہوئی ہے گلے میں تختی لکھا ہوا ہے جس پر یاہو کوئی نہ سمجھے ان کی بھاشا کہلائیں پروفیسر یاہو

مزید پڑھیے

باپو

بچو تم نے باپو کی تصویر تو دیکھی ہوگی ایک نظر میں سمجھو گے تم ان کو بوڑھا جوگی ہاتھ میں لاٹھی پاؤں میں چپل تن پر ایک لنگوٹی اس بھیس میں باپو نے سر کی عظمت کی چوٹی ہم وطنوں کو بھوکا ننگا کیسے دیکھا جائے باپو کپڑے کیوں پہنے کیسے بھر پیٹ وہ کھائے باپو نے رستہ اپنایا ستیہ اہنسا ...

مزید پڑھیے

کیا خوب مرمرے ہیں

خستہ ہیں بھربھرے ہیں کیا خوب مرمرے ہیں ہو شاہ یا قلندر بہتر ہو یا ہو کہتر بازار سے منگائے دیکھو جسے وہ کھائے ہو کیوں نہ بول بالا دلی کا ہے مسالہ نمکین ہوں کہ سادہ دینا ہمیں زیادہ سوندھے ہیں کرکرے ہیں کیا خوب مرمرے ہیں

مزید پڑھیے

جنگل نہ سہی

سویرے ایسا لگا جیسے کوئی دروازے پر دستک دے رہا ہے اٹھ کر دیکھا تو کوئی نہیں تھا کھٹ کھٹ کی آواز پر دھیان دیا تو کھڑکی کے پٹ پر بیٹھا نظر آیا ایک پرندہ چونچ سے بنا رہا تھا نقش و نگار کیوں بھئی میں نے پوچھا تو کہنے لگا کرائے پر چاہئے ایک ٹہنی جس پر بنا سکوں اپنا گھونسلہ اپنی تو جیسے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 766 سے 960