بھوت
بستی میں خوف اترتا ہے گلیوں میں ہو پھیلاتا ہوں پیپل کے نیچے شام ڈھلے اپنا دربار لگاتا ہوں تم رات گئے تک بستر میں بیتال کتھائیں پڑھتے ہو میں چپکے چپکے نیندوں میں مایا کے جال بچھاتا ہوں کچھ ڈرتے ہو گھبراتے ہو تم سیٹی لاکھ بجاتے ہو ویرانے میں جب چلتے ہو میں پیچھے پیچھے آتا ...