شاعری

کتاب کا کیڑا

دق تجھ سے کتابیں ہیں بہت کرم کتابی تو دشمن دزدیدہ ہے خاکی ہو کہ آبی الفاظ کی کھیتی ہے فقط تیری چراگاہ معنی کی زمیں تیرے سب سایوں نے دابی ہونے کو تری اصل ہے صیاد مکیں گاہ کہنے کو فقط تیری حقیقت ہے سرابی تو نے تو ہر اک سمت لگائی ہیں سرنگیں پارینہ ہو فرمان کتابیں ہوں نصابی بادامی ہو ...

مزید پڑھیے

سنجیو صراف کے لیے ایک نظم

عزم شاہینی لیے اک نوجواں سنجیو ہے اب مری اردو کا سچا پاسباں سنجیو ہے ریختہ کے ہو تمہیں استاد غالب آج بھی ہاں مگر اس باغ کا اب باغباں سنجیو ہے جس میں لاکھوں ہیں ستارے شاعری و نثر کے اس نئی اک کہکشاں کا آسماں سنجیو ہے خوب رو ہے خوب سیرت نرم گفتاری بھی ہے با ادب تہذیب کا سیل رواں ...

مزید پڑھیے

اسرار بہت ہیں

دیوار جنوں سے لگ کر رونا اپنا ہی نوحہ در و دیوار سے کہنا پاگل پن کے آثار بہت ہیں کہتے نہیں لیکن طلب گار بہت ہیں یقیں مانو ہم بیمار بہت ہیں تو ہے تو بھی دل کے آزار بہت ہیں اور دل پیچیدہ کے اسرار بہت ہیں

مزید پڑھیے

سپاس نامۂ بہار غم

جشن بہاراں میں آج قصیدۂ گل چھیڑیں محفل میں رنگ بھر دیں اور عنایت گل کا پھر بہار کو احسان مند کر دیں کہ جیسے سعادت غم سے گراں بار دل زخم زخم گل سے بہار جاں فزا کا سزاوار اک الگ طرح سے پھر اس گل پیرہن کو آج دل سوزیٔ جاں کا قرض اٹھائے سپاس نامۂ بہار غم میں مرحبا مرحبا کہہ دیں

مزید پڑھیے

انحراف

اتنی اونچی آواز کس کی ہے کس نے دستور سے انحراف کیا اس طوطی کے نقار خانے میں کس نے زنجیر حبس کو ساز کیا کون اٹھتا اس جہان سراسیمہ میں اہل جنوں نے ہی طبل سے آغاز کیا دن منایا جا رہا ہے گھر کے باہر آج میرا عالمی دن ہے بہت شور و غوغا ہے اور گھر کے اندر کولہو کے بیل کی طرح میں اپنے دائرے ...

مزید پڑھیے

زندگی

پھولوں کی سیج بھی نئیں اور سراسر غم کا افسانہ بھی نئیں کچھ کیف ہے کچھ کڑواہٹ بھی کچھ دلچسپ ہے کچھ اکتاہٹ بھی کچھ غم ہے کچھ راحت بھی سب کچھ ہے مگر سچ ہے یہ بھی اس سے بڑا کوئی سراب خانہ بھی نئیں میں نے تمہیں خط لکھا تھا ملا ہوگا تمہارے خط تو مجھے مل جاتے ہیں جو تم ہواؤں کے ہاتھ بھیجا ...

مزید پڑھیے

اٹوٹ انگ

مرا سر تم اپنے ہی زانو پہ رکھ کر مجھے پوچھتی ہو! کہ میں کون ہوں کیا ہوں، کیسے ہوں؟ سارے سوالوں کو مٹھی میں رکھ کر ذرا میری اک بات سن لو سنو! یہ تمہارے بدن کا خمار آشنا کیف۔۔۔ نرم و مسلسل مجھے لذتوں کے عمق میں لیے جا رہا ہے میں پل پل کبھی لحظہ لحظہ کبھی دھیرے دھیرے کبھی لمحہ لمحہ ...

مزید پڑھیے

امید

مجھے یقیں ہے کہ تم کون مہندی سے جب میرے عدو کا نام اپنی خوب صورت کلائی پر لکھو گی تو میرا خیال آتے ہی آخر ایک دن اس منحوس کے نام پر خود ہی بڑا سا کانٹا لگا دو گی اور دوسری کلائی پر میرا نام لکھ کر اسے دیر تک چومتی رہو گی میں اس لمحے کے انتظار میں متبادل کلائیوں کی جانب سے ...

مزید پڑھیے

انہیں مجھ سے شکایت ہے

انہیں مجھ سے شکایت ہے کہ میں ماضی میں جیتی ہوں مرے اشعار میں آسیب ہیں گزرے زمانوں کے وہ کہتے ہیں کی یادیں سائے کی مانند میرے ساتھ رہتی ہیں یہ سچ ہے اس سے کب انکار ہے مجھ کو میں اکثر جاگتے دن میں بھی آنکھیں موند لیتی ہوں کوئی صورت کوئی آواز کوئی ذائقہ یا لمس جب جادو جگاتا ہے تو گرد ...

مزید پڑھیے
صفحہ 758 سے 960