شاعری

ہار سنگار

تم نے دیکھے ہیں کبھی ہار سنگار وہ دل آویز سے معصوم سے دو رنگے پھول رات کو شاخ پہ کھلتے تھے ستاروں کی طرح وہ بھلا دن کی تمازت کے ستم کیوں سہتے اس لیے آخر شب اپنے ہی حسن سے بے خود ہو کر اوس سے بھیگے ہوئے فرش پہ کس پیار سے بچھ جاتے تھے جیسے کل رات یہاں زعفراں رنگ کی چادر پہ بکھیرے ہوں ...

مزید پڑھیے

نقرئی طلسم

رات تاریک تھی اک کالے سمندر کی طرح اجنبی دیس تھا تنہائی تھی جگمگاتے ہوئے بازاروں کی بے کیف فضا اور بوجھل سا کئے دیتی تھی جسم و جاں کو شہر کی حد سے پرے دور تک پھیلے ہوئے ریت کی سفاکی تھی آسمان دھول میں لپٹا ہو تا حد نظر کوئی سایہ نہ سراب کار میں بجتا ہوا گیت بھی الفاظ کی تکرار ...

مزید پڑھیے

اکثر ایسا ہوتا ہے

بیتے موسم کی خوشبو سے مہکے تتلی لمحے خشک لبوں کو چھو لیتے ہیں ساری کڑواہٹ تن من کی ایک غزل ہو جاتی ہے کبھی کہیں کوئی سچی بانی کوئی دیپک سا لہجہ مدھم سر میں ڈھلتا ہے اکثر ایسا ہوتا ہے ڈھول پیٹتے لفظ نہ جانے کیسے گم ہو جاتے ہیں ایک سریلی سی شہنائی پریم سدھا بن جاتی ہے اکثر ایسا ہوتا ...

مزید پڑھیے

ریموٹ

دمکتے چہرے گھنیری زلفیں یہ سرسراتے ہواؤں جیسے لباس جسموں کا بانکپن دل ربا ادائیں یہ جھلملاتے مکان رنگین شہر چمکیلی کاریں یہ سب مناظر جو راحتوں کے سراب دکھلا کے خواہشوں کے لطیف پیکر تراش کر خواب بیچتے ہیں بہت حسیں ہیں یہ کیا ہوا بس پلک جھپکتے ہی سارے منظر بدل گئے ہیں یہ خوں میں ...

مزید پڑھیے

جادو نگری

زندگی کی تلخیاں ناکامیاں ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کرچیں روز و شب کو مضمحل کر دیں تو میرے ساتھ آؤ ذرا ٹھہرو میں اپنی جادو نگری کی جھلک دکھلاؤں تم کو وہ دیکھو کس طرح سے آسماں کے کینوس پر بادلوں کا رقص ہوتا ہے کبھی تم نے گھنے جنگل میں شاخوں سے ٹپکتے شبنمی موتی نہیں دیکھے کبھی سرما کی رت ...

مزید پڑھیے

خواب جنگل

نیند پالکی اتری رات دور جنگل میں خواب خواب منظر تھا دھیرے دھیرے بہتی تھی سمفنی ہواؤں کی رات چاند بادل میں چاندنی کی بانہوں میں جھیل والتز کرتی تھی دھیمی دھیمی سی خوشبو ساتھ ساتھ چلتی تھی کنج میں درختوں کے بے خودی کے عالم میں مست ڈار ہرنوں کی بیلے رقص کرتی تھی ہرنیوں کی آنکھوں ...

مزید پڑھیے

دھنک رنگ

پہاڑی کے اس پار کوئی دھنک ہے نہیں ہے دھنک کے سرے پر کوئی جادو نگری پرستاں خزانہ مرا منتظر ہے نہیں ہے مجھے کوئی دھوکا نہیں ہے سمندر کے اس پار سے آنے والی ہواؤں میں کوئی سندیسہ نہیں ہے اگر کچھ نہیں ہے تو ساری تگ و دو یہ امروز و فردا کے سب سلسلے کس لئے ہیں افق سے پرے مرغزاروں کی آخر ...

مزید پڑھیے

صبح کے دو منظر

موتیا سے کھلے ہوئے بچے پاک معصوم نرم چہروں پر صبح کی تازگی کا نور لئے لال پیلے سجیلے بستوں میں اپنی ماؤں کا پیار باپ کے خواب روز اسکول لے کے جاتے ہیں صبح ہوتی ہے پھینک دیتا ہے زرد میلا تھکا تھکا سورج پاک معصوم نرم چہروں پر روزی روٹی کی احتیاج کی دھول صبح ہوتی ہے کچی بستی میں روز ...

مزید پڑھیے

ذہن تھکا ہے

موسم آیا چھٹی کا ہر لمحہ بے فکری کا کھیل کوئی ہم کھلیں گے ہر دن اپنی مرضی کا ذہن تھکا ہے پڑھ لکھ کر عیش کریں گے اب جی بھر

مزید پڑھیے

خرابی

خرابی کا آغاز کب اور کہاں سے ہوا یہ بتانا ہے مشکل کہاں زخم کھائے کہاں سے ہوئے وار یہ بھی دکھانا ہے مشکل کہاں ضبط کی دھوپ میں ہم بکھرتے گئے اور کہاں تک کوئی صبر ہم نے سمیٹا سنانا ہے مشکل خرابی بہت سخت جاں ہے ہمیں لگ رہا تھا یہ ہم سے الجھ کر کہیں مر چکی ہے مگر اب جو دیکھا تو یہ شہر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 759 سے 960