ہار سنگار
تم نے دیکھے ہیں کبھی ہار سنگار وہ دل آویز سے معصوم سے دو رنگے پھول رات کو شاخ پہ کھلتے تھے ستاروں کی طرح وہ بھلا دن کی تمازت کے ستم کیوں سہتے اس لیے آخر شب اپنے ہی حسن سے بے خود ہو کر اوس سے بھیگے ہوئے فرش پہ کس پیار سے بچھ جاتے تھے جیسے کل رات یہاں زعفراں رنگ کی چادر پہ بکھیرے ہوں ...