شاعری

ایک نظم لکھنا آسان ہے

ایک نظم لکھنا بہت آسان ہے ایک کاغذ اور قلم ہونا چاہئے اور دماغ اور ایک دل اور وہ لفظ جو نظم لکھنا چاہ رہے ہوں اور دل اور دماغ کے درمیان ایک سلسلہ لیکن کبھی کبھی نظم نہیں نظم نہیں لکھی جا سکتی دل اور دماغ اور لفظ کاغذ اور قلم جب ان میں سے کوئی ایک نہیں ہوتا تو پھر نظم درمیان سے کھو ...

مزید پڑھیے

ایک زندگی اور مل جائے

اگر مجھے ایک زندگی اور مل جائے تو میں اپنے سفر کو اپنے اسباب کے ساتھ باندھ کر رکھوں ایک پرندے کی طرح پانیوں سے ٹکراتی ہوئی آنکھ سے اوجھل ہو جاؤں ایک ایسے درخت کی طرح جو ساری عمر دھوپ اور چھاؤں کا مزا لیتا ہے ایک ایسے بنجارے کی طرح جو پہاڑوں اور میدانوں کو اپنے قدموں کی دھول ...

مزید پڑھیے

اندھیرا

یہ سب کچھ اندھیرے میں ہی ہوتا ہے بہت سے اوزار اور نامعلوم ہاتھ ایک اندھیری کوٹھری میں قید کوئی بھی کوئی بھی ہو سکتا ہے جس کا گلا کاٹا جاتا ہے یا ٹانگ یا ہاتھ توڑ توڑ کر پھینکا جاتا ہے کسی بھی ڈسٹ بن میں لیکن یہ کیسے دیکھا جائے جیسے آنکھوں کو کسی تیز دھار آلے سے کاٹ دیا گیا ہو جائز ...

مزید پڑھیے

ہم دونوں

ہم دنوں اکٹھے رہتے ہیں اکٹھے سوتے ہیں ہمارے دکھ سکھ ایک ہیں ہماری آنکھیں ایک دوسرے کے خواب دیکھ لیتی ہیں ہم کہیں بھی ہوں ایک دوسرے کے ناموں سے جانے جاتے ہیں ہمارے گھر آنے والے اپنی دستک میں دونوں کا نام شامل کر لیتے ہیں دن کے پہلے حصے میں ہماری آنکھیں ایک دوسرے کو خوش آمدید کہتی ...

مزید پڑھیے

زمین اور پاؤں

جب گزر جائے ایک خواب اور رہ جائے ایک تلچھٹ پیٹ بھرتا ہے جب درختوں پر روٹی نہیں اگتی دھول اور دھوپ خالی کرتے ہیں جسم رہ جاتی ہے ایک سانس جو ملاتی ہے پاؤں زمین سے جب گزر جائے ایک دن اور رہ جائے ایک رات بے مزہ اور کسیلی باقی کچھ نہیں رہتا صرف زمین اور پاؤں میز پر رکھے ہاتھ

مزید پڑھیے

تمہارے آنے کے بعد

تمہارے آنے سے پہلے کنجی تالے میں گھومتی ہے تمہارے داخل ہونے کی آواز آتی ہے تم دھماکے دار پاؤں رکھتے ہوئے آہستہ سے یا کبھی تیزی سے کمرے میں کہیں کسی طرف جاتے ہوئے پھر تھوڑی دیر تک وہیں کھڑے رہتے ہو شاید میرے ساکت جسم کو دیکھتے ہو جو تمہاری حرکت کی آواز پر کان لگائے پڑا ہوتا ...

مزید پڑھیے

سوغات

نظم کون لکھتا ہے وہ جو ملال میں مبتلا ہے یا وہ جو جشن منانا بھول گیا ہمارے پاس تمہاری دی ہوئی سوغات ہے برسوں پرانی ہم نے اسے پرانے سامان کے ساتھ سینت کے رکھا ہے دوسروں کی نظروں سے چھپا کر کوئی دیکھے گا نہیں کوئی نہیں ہم جانتے ہیں اگر ہم نہیں بھی جانتے پھر بھی یہ تو خفیہ واردات ...

مزید پڑھیے

محبت اپنا زائچہ نکلوانا چاہتی ہے

صبح اٹھتے ہی ضد کرتی ہے اور مجھے دھونس دیتی رہتی ہے اگر ایسا نہیں کیا تو میں نفرت سے دوستی کر لوں گی اور یہ دل جو ایک کونے میں سکڑا پڑا ہے فریاد کرتا رہ جائے گا مجھے اس پر ترس آتا ہے تم جلدی سے میرا زائچہ نکالو اور دیکھو مجھے کب تک تمہارے ساتھ رہنا ہے تم کب تک مجھے گھسیٹو گی کب تک ...

مزید پڑھیے

لفظوں کے کھیل

لفظوں کے کھیل بہت عجیب ہوتے ہیں کبھی آسمان پر لے جاتے ہیں اور کبھی زمین پر دے مارتے ہیں یہ کپڑوں کے رنگوں سے زیادہ کبھی بہت گہرے کبھی بہت ہلکے سروں میں دھیمے دھیمے خون سیراب کرتے ہیں اور کبھی ایک ایک قطرہ نچوڑ لیتے ہیں یہ آرام دہ بستر پر ہم سے ہم بستری کرتے ہیں اور کبھی ہماری آنول ...

مزید پڑھیے

اداسی کا پہلا گھاؤ

تمہیں کب ملا پہلی بار جب وہ تم کو اپنے پنجوں سے کھرچ رہی تھی کیا تم نے ہتھیار ڈال دئے تھے یا اپنے آنسوؤں میں گھول کر اس پانی کو آسمان پر اچھال دیا تھا یہ راز کی بات ہے محبت کونے کھدرے میں پڑی سوکھے نوالے چبانے میں لگی ہے اس کے پاس لعاب بھی نہیں ہے نوالے چبانے کی آواز کتنے سال ...

مزید پڑھیے
صفحہ 757 سے 960