کچرے کا ڈھیر
کاندھے پر قد سے لمبی بوری لٹکائے ایک بچہ کچرے کے اس ڈھیر کی جانب لپکتا ہے جہاں سے ناک بند کر کے گزرنا بھی دشوار لگتا ہے شام تک غلاظت کے اس پہاڑ سے وہ بدبو دار ڈبے بوتلیں اور بوسیدہ کاغذ چنے گا دن ڈھلے اپنی خواری کی سستی مزدوری جب پائے گا گھر جاتے ہوئے وہ خوشی کا راگ گائے گا مگر اس ...