شاعری

مرا روزہ ہے

دور سے جلوہ دکھاؤ کہ مرا روزہ ہے تم مرے پاس نہ آؤ کہ مرا روزہ ہے گھٹ سکے دن تو گھٹاؤ کہ مرا روزہ ہے بڑھ سکے رات بڑھاؤ کہ مرا روزہ ہے قرض اٹھاؤ کہ چراؤ مگر اے اہل حرم بیسیوں کھانے پکاؤ کہ مرا روزہ ہے میرے بچو کہیں باغیچے میں کھیلو جا کر گل غپاڑہ نہ مچاؤ کہ مرا روزہ ہے باندھ لو آنکھوں ...

مزید پڑھیے

میرے خاموش خدا

مرے خاموش خدا ساتھ مرے بول ذرا مرے اندر تو اتر میری تمنا میں دھڑک میں جو آنکھوں میں تھکن رکھ کے سفر کرتی ہوں مری راتوں کو مرے خواب نہ ڈس جائیں کہیں میرے اندر وہ خیالات نہ بس جائیں کہیں جن کو ممنوعہ زمینوں کی حکایات کہا جاتا ہے تیرگی پر جسے لکھی ہوئی وہ رات کہا جاتا ہے جس کی قسمت ...

مزید پڑھیے

ایک مسافر سے

تھکا سورج اجڑتی شب کے پہلو میں پناہیں ڈھونڈھتا ہے خیمۂ جاں میں سفر لمحہ طنابیں کھولتا ہے جدائی راستہ روکے کھڑی ہے اداسی ساحلوں پر ریت کی صورت بچھی ہے سفر آغاز ہونے میں ابھی کچھ وقت باقی ہے ابھی مت بادباں کھولو ذرا آرام کر لو

مزید پڑھیے

تمہاری چپ مرا آئینہ ہے

تمہاری چپ مجھے ہر بار جینے کی نئی اک بد گمانی سونپ دیتی ہے میں لفظوں کے خیالوں کے سنہری سرمئی رنگین نقطوں سے کہانی کا نیا اک موڑ لکھتی ہوں بکھرتی زندگانی کو نئی ترتیب دینے کی بہت کوشش میں کرتی ہوں مگر تم تک رسائی کا کوئی رستہ نہیں بنتا تم اپنی چپ کے سچے مست لمحوں میں خود اپنے آپ ...

مزید پڑھیے

پنچھی تے پردیسی.....

پرندے اور پردیسی کبھی واپس نہیں آتے جلا وطنوں کے پاؤں کے تلے دھرتی بڑی کمزور ہوتی ہے کبھی رستہ نہیں ہوتا کبھی سایہ نہیں ہوتا شجر کی آرزوئیں دھوپ کے آنسو بہاتی ہیں مگر بارش نہیں ہوتی پرندے اور پردیسی کبھی واپس نہیں آتے دعائیں گٹھریوں میں باندھ کر چوکھٹ پہ بیٹھی ماؤں کے پتھر ...

مزید پڑھیے

انہیں ڈھونڈو

انہیں ڈھونڈھو سفر کی شام سے پہلے کسی انجام سے پہلے انہیں ڈھونڈو جو ملنے کی گھڑی میں ہم سے بچھڑے تھے دلوں سے پھوٹتے اس غم سے بچھڑے تھے جو آنکھیں خشک رکھتا ہے مگر دہلیز جاں تک پانیوں کو چھوڑ جاتا ہے جو رستہ دل کی گلیوں سے نکلتا ہو اسی رستے کی ہر اک سمت کو وہ موڑ جاتا ہے مسرت کی ہری ...

مزید پڑھیے

میں جب خود سے بچھڑتی ہوں

مری پلکوں پہ تابندہ تری آنکھوں کے آنسو مجھے تاریک راتوں میں نئے رستے سجھاتے ہیں وجودی واہموں کی سر زمینوں پر میں جب خود سے بچھڑتی ہوں چمکتی ریت کے ذروں کی صورت جب بکھرتی ہوں مجھے وہ اپنے نم سے جوڑ دیتے ہیں مجھے خود سے ملاتے ہیں میں جب دن کی بہت لمبی مسافت میں اداسی کی تھکن سے چور ...

مزید پڑھیے

یہ شہر نارسائی ہے

یہ شہر نارسائی ہے یہاں دستور گویائی نہیں ہے یہاں لب کھولنا بھی جرم ہے یہاں پر جب کبھی آؤ خموشی کا ارادہ باندھ کر آؤ یہاں گونگے گھروں کی ساری دیواروں میں آوازوں کے جنگل جاگتے ہیں یہاں آنکھیں نہیں ہوتیں یہاں دل بھی نہیں ہوتے یہاں بس ایک ہی چہرہ ہے باقی سارے چہرے اس کی نقلیں ...

مزید پڑھیے

اگر عورت کما سکتی تو

کھری باتوں کا ذائقہ ترش ہوتا ہے بہ حیثیت انسان عورت کی ضرورت کسی مرد کو نہیں وہ گروی رکھی جائے یا بیچ دی جائے کرائے پہ لی جائے یا یک مشت خرید لی جائے اس کے خیالات کی بندر بانٹ ممکن نہیں حکم کی پابندی کا طوق پہن کر جیون کی کٹیا کا کرایہ ادا کرتے ہوئے اگر عورت کما سکتی تو لاتی مرد کے ...

مزید پڑھیے

چوکیدار

ایک سافٹ ڈرنک کی قیمت میں دسمبر کی سردی میں جب ہمیں اپنے بستر سے دروازے تک جانا نا ممکن لگتا ہے وہ ہماری چھتوں کی نگہبانی ہڈیوں میں چھید کرتی یخ بستہ ہواؤں سے لڑ کر کرتا ہے کوئی نہیں جانتا اس کا اپنا گھرانا مہینے کی آخری تاریخیں کس اذیت سے کاٹتا ہے اور پھر اگلے مہینے کے پہلے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 721 سے 960