شاعری

اعادۂ حکایتیں

وہ دن جو گزرے ہیں بھولی بسری حکایتیں ہیں کہ دوستوں سے نہ کوئی شکوہ نہ دشمنوں سے شکایتیں ہیں کچھ ایسا لگتا ہے جیسے اب تک میں ریل میں تھا برا بھلا جو تھا آنے جانے کے کھیل میں تھا شجر شجر تھیں حقارتیں بھی محبتیں بھی شعور غم کے مظاہرے بھی مسرتیں بھی جو مسکرائے تھے ان کے حالات مختلف ...

مزید پڑھیے

پیار ہے وہ

ننھی منی دودھ کی خوشبو لنڈھاتی گڈھلیوں چلتی محبت بانٹتی تتلاہٹوں کا قافلہ سالار ہے وہ رس سے بھاری ہونٹ چندن سی مہکتی زلف امرت سے بھرے الٹے کٹوروں لجلجی لذت سے بوجھل ٹہنیوں کا خندقوں قوسوں تکونوں کا علمبردار ہے وہ جھکتی کمروں برف سے بالوں بدن کے دکھتے جوڑوں جنتی پیروں کی خاطر ...

مزید پڑھیے

نام اس کا

نام جب لیتا ہوں ہونٹوں پر زباں کو پھیرتا ہوں کیوں کہ اس کے نام میں اس کی زباں اس کے لبوں کا ذائقہ ہے جب بدن وہ نام لیتا ہے تو ایسے جھنجھناتا ہے کہ جیسے اس کی زہری انگلیوں نے چھو لیا ہو نام اس کا اس کے اپنے بازوؤں کے دائرے کی طرح شوریدہ بدن کو گھیرتا ہے نام اس کا پانیوں میں گھول کر پی ...

مزید پڑھیے

وہ: ایک

میں جب اس سے ملنے جاتا ہوں اکیلے راستے پر ان گنت آنکھیں ستاروں سنگ ریزوں پتیوں کی میرے قدموں پر جمی ہوتی ہیں لیکن میرے سر پر ہاتھ ہوتا ہے کسی کا جب میرے کپڑوں کے گہرے زخم بے آواز جیبیں بھر نہیں سکتے تمنائیں سر مژگان غربت میرے دل میں پھوٹ کر روتی ہیں لیکن میرے سر پر ہاتھ ہوتا ہے ...

مزید پڑھیے

ادھورا خواب

شہر کیسے یہ اجنبی ٹھہرا کیسے پہچان کھو گئی میری اب کوئی جانتا نہیں مجھ کو سوچتا ہوں تو کانپ جاتا ہوں سہمے سہمے سے ہیں در و دیوار کھڑکیاں دیکھ کر تعجب سے گفتگو کر رہی ہیں آپس میں کون آیا ہے ملنے برسوں بعد کہہ رہی ہے یہ مجھ سے کیا انگنائی پوچھتی ہے کہاں سے آئے ہو کچھ بتاؤ تو کس سے ...

مزید پڑھیے

ماں

اب بھی جب گردش ایام سے گھبراتا ہوں بھاگا بھاگا ترے کمرے میں چلا آتا ہوں سر جھکا کر تری تصویر کے آگے چپ چاپ پہروں بیٹھا ہوا بچے کی طرح جانے کیا سوچتا رہتا ہوں پھر ایسا گماں ہوتا ہے ہاتھ شفقت سے کسی نے مرے سر پر رکھا دیکھتا ہوں تو خوشی چہرے پہ چھا جاتی ہے ماں مرے واسطے جنت سے چلی آتی ...

مزید پڑھیے

جستجو

وہ ماہتاب اتر آئے چھت پہ کوئی شام ملے مجھے بھی محبت بھرا کوئی پیغام ہزار بار امنگوں نے مجھ کو بہکایا ہزار بار خیالوں نے مجھ کو اکسایا ہزار بار طبیعت تری طرف آئی ہزار بار اکیلے میں دل کو سمجھایا مگر یہ سچ ہے کہ ہر بار ہو گیا ناکام ملے مجھے بھی محبت بھرا کوئی پیغام ہزار بار مرے دل ...

مزید پڑھیے

تاج محل

آگرہ شہر میں محبت کا ایک مینار جگمگاتا ہے لوگ کہتے ہیں جس کو تاج محل میرے دل کو بہت لبھاتا ہے روشنی پھوٹتی ہے جالی سے باغ میں پھول مسکراتے ہیں لوگ پہلو میں بیٹھ کر اس کے ہائے کتنا سکون پاتے ہیں روح جس میں نہیں پہ ہے زندہ تم نہ مانو مگر حقیقت ہے وقت دھندلا نہ کر سکا جس کو یہ محبت ...

مزید پڑھیے

چلو اک بار پھر دریا کنارے

چلو اک بار پھر دریا کنارے جہاں پہلے پہل ہم تم ملے تھے جہاں سے بے بسی جانے لگی تھی جہاں سے زندگی گانے لگی تھی جہاں سے رشک سا آنے لگا تھا جہاں سے نشہ سا چھانے لگا تھا جہاں سے رت جگے کی تھی نمائش جہاں سے دیپ راہوں میں جلے تھے چلو اک بار پھر دریا کنارے جہاں پہلے پہل ہم تم ملے تھے جہاں ...

مزید پڑھیے

جمنا جی

ناز کیوں ہو نہ تجھے کرشن دلاری جمنا تو تو رادھا کی سہیلی بنی پیاری جمنا رتبہ عالی ہے ترا مرتبہ بھاری جمنا ہر جگہ فیض اتم رہتا ہے جاری جمنا ہے یقیں گرم کسی دن بھری محفل ہوگی راس منڈل کی وہ لیلا لب ساحل ہوگی مٹ گیا لطف ترا چھن گیا گہنا تیرا جب کنھیا نہیں بے لطف ہے رہنا تیرا غم اٹھانا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 723 سے 960