اعادۂ حکایتیں
وہ دن جو گزرے ہیں بھولی بسری حکایتیں ہیں کہ دوستوں سے نہ کوئی شکوہ نہ دشمنوں سے شکایتیں ہیں کچھ ایسا لگتا ہے جیسے اب تک میں ریل میں تھا برا بھلا جو تھا آنے جانے کے کھیل میں تھا شجر شجر تھیں حقارتیں بھی محبتیں بھی شعور غم کے مظاہرے بھی مسرتیں بھی جو مسکرائے تھے ان کے حالات مختلف ...