شاعری

شہر آشوب

جن دنوں میں اپنی تنہائی کا نوحہ لکھ رہا تھا بستیاں آباد تھیں رونق بھری تھی شام اور جاڑا گلابی تازہ تازہ شہر میں داخل ہوا تھا جن دنوں میں پا پیادہ اور پھر صدا زباں میں سوز ہائے اندروں کے قصۂ پارینہ کی تفصیل میں تعبیر میں الجھا ہوا تھا بھیڑیے آزاد تھے اور ایک قاتل راگ بجاتا جا رہا ...

مزید پڑھیے

المیہ

میری شورش جدا آنکھوں نے مجھ سے یوں کہا کل شب یہ دھیمی آنچ کا جلنا تجھے دیوانہ کر دے گا میں کیا کرتا کہاں جاتا کہ حائل تھا مرے سینہ میں اک محبوس سناٹا تعین کون کرتا ہم کہاں پر خیمہ زن ہیں مسلط ہے سروں پر کون سا منحوس سایا اور ایسے میں تلاطم روز و شب تیری لگن کا جان لیوا ہے بڑے ہی جاں ...

مزید پڑھیے

دل پر خوں

دل بہت دکھتا ہے ہر بات پہ دل دکھتا ہے صبح نوخیز پہ سورج کی جہاں بانی پہ شام دل دوز پہ انجام گل اندامی پہ عکس موجود پہ انوار رخ زیبا پہ نقش موہوم پہ اخف دل فردا پہ بست افلاک پہ افسانۂ رعنائی پہ شرۂ نیرنگیٔ ہستی و زلیخائی پہ رات کے سوز پہ شاموں کے مہک جانے پہ حدت شوق میں کلیوں کے چٹخ ...

مزید پڑھیے

بساط رقص

مجھے لکھنا تھا سرشاری مجھے لکھنا تھا دل داری مجھے لکھنا تھا اپنا حلف نامہ اور بیان استغاثہ بادشاہ وقت کے مغرور ایوان عدالت میں امڈتی خلق کی موجودگی میں واردات قتل خوباں کے حقائق اور بیان خلق برہم میں قاصد تھا غلاموں کا فرستادہ مرے ہونے میں مضمر تھی خرابی جملہ امکانات مہلک اک ...

مزید پڑھیے

دست تہہ سنگ

شرق سے غرب تک عرش سے فرش تک یا کراں تا کراں ایک سناٹا پھیلا ہوا میری بیکل جبیں کے طلسمات سے تیری بے چین بانہوں کے الہام تک تشنہ ہونٹوں سے ہلچل بھرے جام تک ان کی آنکھوں کے روشن دیوں سے مری ارغوانی گھنی شام تک یا کراں تا کراں ایک سناٹا پھیلا ہوا کہکشاں بجھ گئی راستے میں کہیں رنگ ...

مزید پڑھیے

وصل

سحر کے وقت کنواری زمین شبنم میں نہا کے لیٹی ہے وہ سبز چادر گل تاب عارض مہتاب خمار خواب کا عالم وہ انتظار کا عالم کہ دور دیس سے جیسے کبھی تو آئے گا وہ دور دیس سے سورج کا دیوتا آیا اور اپنی تیز نگاہوں سے گدگدی کرتا وہ جوف الارض کے نصف النہار پر پہنچا زمیں پہ خوف کی اک زرد لہر سی ...

مزید پڑھیے

وقت

یہ ننھی سی گڑیا جسے دو برس ہو گئے ہیں میں جاپان سے لے کر آیا یہ رقاصہ رنگین کپڑوں میں ملبوس اسی ایک انداز سے دو برس سے کھڑی ہے نہ پلو ہی سرکا نہ ہاتھوں سے رومال رنگیں ہی چھوٹا نہ سر سے یہ تاج سرفرازی و کج کلاہی ہٹا اس کا ویسا ہی معصوم چہرہ وہی زیر لب مسکراہٹ وہی قوس ابرو وہی چشم ...

مزید پڑھیے

عورت

تو نے میرے دکھ کی خاطر کتنے رنج سہے اپنی گود میں تو نے مجھ کو اپنے لہو کی چاندنی بخشی میں اک چاند بنا جس نے دھرتی سے یہ گھور بھیانک اندھیاروں کا خوف مٹایا جب تو زینت ھجلہ بنی تو نے اپنے خون کی آتش مجھ کو بخشی میں اک سورج بن کر چمکا جس کی دھوپ میں میری روح کا قیدی شاہیں ناگ کے پھندے ...

مزید پڑھیے

سروش

یہ سمندر موج در موج سلاسل ہلکے گہرے سبز نیلے رنگ جن پر جا بہ جا چاندی کے دھبے اس کنارے پر گلابی رنگ میں ڈوبا ہوا اک گول چہرہ پھیلتے پانی میں اپنے آتشیں ہونٹوں کی سرخی گھولتا جائے میں اک سونے کی کشتی میں سوار ان حسیں رنگوں میں مدہوش اس کنارے کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہوں دور سطح آب پر ...

مزید پڑھیے

دیدنی تھی شکستگی دل کی

چاہے جس طور بیاں کیجئے افسانۂ درد جسم کو خوف بہت جان کو اندیشے تھے چاہے جس طور رقم کیجے گراں جانیٔ دل خوں میں ہنگامہ بہت راہ میں ویرانے تھے لاکھ چاہا دل مضطر کی کشاکش سے سوا رقص بے پروہ و بے باک کا آغاز کروں خون دل اشک کروں اشک گہر تاب کروں پس دیوار قفس سینۂ دل چاک کروں لاکھ چاہا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 706 سے 960