شو کیس سے جھانکتی گڑیا
کبھی ہم پھول ہوتے تھے
گلابی نرم و نازک اوس میں بھیگا
مہکتا مسکراتا خوشبوؤں کو چومنے والا
محبت کرنے والے جھوم اٹھتے جب ہمیں پاتے
ہمیں پوروں سے چھو کر روح تک محسوس کرتے تھے
کئی کالر کئی آنکھیں انوکھے وصل کے لمحے
ہمارے منتظر ہوتے
ہمارے حسن کے چرچے گلی کوچوں میں ہوتے تھے
اداؤں کے سنہرے تیر پلکوں میں پروتے تھے
ہوئی مدت کہ ہم پت جھڑ کے پیروں کی بنے ہیں دھول
لیکن یہ حقیقت ہے
کبھی ہم پھول ہوتے تھے