شاعری

وقت کی باڑھ

جھلملوں کی آڑ میں رقصاں درد کی آندھی شور مچا کر پانی کی دیوار اٹھا کر وقت کی سرحد توڑ رہی ہے پانی کی دیوار میں قطرہ قطرہ روزن کھول رہی ہے آنکھیں اپنے ہاتھ بڑھائے روزن کے اس پار کھلی ہیں عکس کی تہ میں عکس کو چھو کر دیکھ رہی ہیں بھیگے چہرے جسموں کی محتاط فصیلوں پر چپکے بے خود ...

مزید پڑھیے

سوختہ جسم کا لباس

لباس جل کر مرے بدن پر چپک گیا ہے بدن مسلسل سلگ رہا ہے کہیں کہیں بھولے بھٹکے شعلے اٹھا کے لو سر کی اب بھی باہر کو جھولتے ہیں جنہیں میں اپنی جلی ہتھیلی کی پشت سے خود دبا رہا ہوں الاؤ سے باہر آ کے دہشت زدہ نگاہوں سے دیکھتا ہوں کہیں سے اب ایمبولنس آئے گی میری جانب کوئی مسیحا نفس ...

مزید پڑھیے

خواب کے آخری حصے میں

جسم بے جان ہے پتھر سی بنی ہیں آنکھیں اور اک خوف کا ملبوس پہن کر کوئی گھورتا رہتا ہے ہر وقت خلا میں شاید آئینہ خانوں کی مقہور نما چاہت میں عکس در عکس بکھرتی ہوئی پرچھائیاں ہیں اور سناٹوں کی گمبھیر صدا ہے ہر سو شاخ در شاخ خزاں نوحہ کناں ہے ہر سو ایسے ماحول میں جینا بھی ہے خواب کے ...

مزید پڑھیے

مقفل چپ

میں کہ گفتار کا ماہر تھا جہاں دیدہ تھا لوگ سنتے تھے مری اور سناتے بھی تھے اپنے دکھ درد میں ڈوبی ہوئی ساری باتیں مسئلہ کون سا ایسا تھا جسے حل نہ کیا آج بھی بھیڑ تھی لوگوں کی مرے چاروں طرف میں نے ہر ایک کو باتوں میں سکوں یاب کیا پھر کوئی دور سے دیتا ہے صدا کون ہو تم آئے ہو کون سی ...

مزید پڑھیے

ہم زاد

جو چلتا ہے تو قدموں کی کوئی آہٹ نہیں ہوتی تلاش فرق نیک و بد کی خواہش کو لیے دل میں گزرتا ہے غبار زیست کی گم نام گلیوں سے دھندلکا سا کوئی ہے یا کوئی بے خواب سی شب ہے کوئی بے نور رستہ ہے کہ جس میں کھو گیا ہوں میں کوئی آواز ہے جو اک دریدہ پیرہن پہنے ہجوم بے سر و پا میں کئی صدیوں سے رہتی ...

مزید پڑھیے

خاموشی کا شور

بادلوں کے خون سے چپکی ہوئی اس شام میں اڑ رہے تھے کچھ پرندے لڑکھڑاتی آہٹوں کے کارواں کے ساتھ میں شہر گردی میں رہا گھر کا رستہ یاد آتا ہی نہ تھا کس قدر میں ڈر گیا تھا نیند کی خاموشیوں کے شور سے

مزید پڑھیے

پہچان

کسی بھی موڑ پہ رک کر جو پیچھے دیکھا ہے تو ایک یاد ملی آنسوؤں میں بھیگی ہوئی تو ایک رات ملی سوگوار سہمی ہوئی تو ایک خواب ملا در بدر بھٹکتا ہوا اور ایک جسم ملا جس کے سر کے بالوں میں گزرتے وقت نے لمحوں کی راکھ ڈالی ہے وہ جسم میرا نہیں ہے تو پھر وہ کس کا ہے

مزید پڑھیے

کوئی ذی روح نہ تھا

کوئی ذی روح نہ تھا اطراف میں ویرانی تھی وقت بیمار تھا دم توڑ رہا تھا شاید شام کے موڑ پہ کچھ دھوپ پڑی تھی جس میں ایک بے شکل سے سائے کا لرزتا ہوا عکس رینگتے رینگتے اک لمبی صدا کے پیچھے ان گنت شمسی نظاموں کے جہاں سے نکلا آخر کار وہ اس کار گراں سے نکلا

مزید پڑھیے

نظم

رونق مکتب بتاؤ تو ذرا چار حرفی لفظ ہے وہ کون سا سر کو اس کے کاٹ ڈالیں ہم اگر ظلم کے معنی ہے دیتا سربسر تیسرا گر حرف اس کا دیں گرا اس کے معنی ہوں طریقہ قاعدہ مانتے ہیں اس کو سب پیر و جواں زور و طاقت میں ہے وہ اک پہلواں دیکھ لو تم آپ میں نے کہہ دیا چار شعروں کے ہے سر ہی میں چھپا

مزید پڑھیے
صفحہ 696 سے 960