وقت کی باڑھ
جھلملوں کی آڑ میں رقصاں درد کی آندھی شور مچا کر پانی کی دیوار اٹھا کر وقت کی سرحد توڑ رہی ہے پانی کی دیوار میں قطرہ قطرہ روزن کھول رہی ہے آنکھیں اپنے ہاتھ بڑھائے روزن کے اس پار کھلی ہیں عکس کی تہ میں عکس کو چھو کر دیکھ رہی ہیں بھیگے چہرے جسموں کی محتاط فصیلوں پر چپکے بے خود ...