شاعری

رسی کا پل

رسی کا پل دیکھا بھالا ہچکولے مانوس گرہیں جس کی عقدوں سے پر طول سفر اک عمر رسی کا پل اک دن ٹوٹا اور مسافر گرتے گرتے اس کے دونوں ٹکڑے تھامے خود پل بن کر بیچ میں لٹکا جھول رہا تھا سیکڑوں آنکھوں کے جھرمٹ میں وہ مصلوب تماشہ بن کر ٹوٹے پل کو جوڑ رہا تھا اونچائی پر دونوں سروں کی جانب بے ...

مزید پڑھیے

گرم پانی

روشنی پر دھند کی تہ آئنے کے نقش پھیکے شیشے کے اس پار ابہام مجرد کھڑکیوں پر آنسوؤں کی باڑھ مورتیں ہوں صورتوں سے جیسے عاری پگھلے چہروں سے تھی ہر تصویر بھاری اور سکوت بوجھ ہو گویا بصارت پر نمی کھڑکی کھلتے ہی مگر بانہیں پھیلا کر ہوا نے بڑھ کے آنکھیں چوم لیں آئنوں کے آنسو پونچھے رنگ ...

مزید پڑھیے

یہ سڑک

کوئی آگے نہ پیچھے بہت دور تک ایک لمبی سڑک درمیاں میں کوئی سایہ چہرہ بکف گویا تصویر تجرید ماحول کا کینوس بے حد و بیکراں اس پہ بجھتا ہوا رات کا کوئلہ آگ کا رازداں سارے پس منظروں کو سمیٹے ہوئے جو دکھائی نہیں دے رہا وہ دھواں اور سڑک جس کا کوئی سرا ہی نہیں چل رہا ہوں بہت مدتوں سے یوں ...

مزید پڑھیے

لب دریا

پینے والے دہن لب دریا پیاس بجھنے کے منظروں کا فشار سرخ ہونٹوں سے وہ ٹپکتا لہو پپڑیاں جا بجا چٹختی ہیں خشک ہونٹوں میں گڑے جاتے ہیں خار اور ادھر ہونٹ جو نمی سے دو چار

مزید پڑھیے

عالمین

خواب ہے یا کوئی تصور ہے یہ توازن یہ فکر کا میزان اتنا گہرا خموش آوازہ ہر تحرک بقدر اندازہ بے حصاری کا یہ معدوم حصار کائناتوں کا بے شمار شمار قلزم بے کنار کا عالم عالموں کے غبار کا عالم کہکشاؤں کے ہار لا محدود مہر بے اختیار لا محدود بے حد و بے حساب سیارے داغ بے داغ بے پنہ تارے ایسا ...

مزید پڑھیے

شیشے کا بلب

وہ شیشے کا بلب اور کوئی اس کے اندر بہت ہانپتا گول دیواروں کو جلدی جلدی کھرچتا پھسلتا ہے گرتا ہے اٹھتا ہے فوراً مسلسل کھرچتے ہی جاتا ہے لیکن اسے ڈر ہے سر پر لٹکتا ہوا دھاتی لچھا کہیں جل اٹھا تو اسے بھون دے گا مگر اتنی وحشت میں اس کو خبر کیا کہ لچھا سلامت نہ اب برقی رو اس کے تاروں ...

مزید پڑھیے

غلام گردش

خوشی عدم کے کسی جھروکے کی اوٹ سے جھانکتی نظر کا فریب کوئی طویل بے رحم راستوں پر سراب کوئی تمام شب جگنوؤں کو چننے کا خواب کوئی خوشی وہ رہ رہ کے چند لمحوں کو سانس لیتا حباب کوئی اداس تاروں کو چھیڑتی انگلیوں کے زخموں سے اٹھتے سر کے خیال میں گم رباب کوئی خوشی کہ میزان کے جزیروں سے ...

مزید پڑھیے

زمستاں

سخت سفاک خود میں سمٹ کر چٹختی ہوئی برف اور منجمد جسم و جاں رات جذبوں کی قبروں پہ کتبے کے مانند اٹکی ہوئی ہاتھ کھرچے ہوئے سانس اکھڑی ہوئی لفظ گویا سماعت کے پردے سے ٹکرا کے چپکے ہوئے برف پر چار و نا چار، پیروں کی جمتی ہوئی انگلیاں ہڈیوں کی دراڑوں میں گھستی ہوا خون تک راہ پانے کی ...

مزید پڑھیے

سیلاب کے بعد

پانی اچھا خاصہ گلے تک آ پہنچا تھا اچھی خاصی ڈوب گئی تھی ساری بستی اچھا خاصہ اک سیلاب تھا پانی اترا بھیگے جسم پہ چپکے کپڑوں اور خاشاک کا منظر ابھرا پانی کیا اترا تنہائی ابھر آئی ہے وہ جو نہیں تھا وہ بھی جیسے سیل رواں کے ساتھ گیا ہو گلیوں میں بے جان بدن ہیں یا سناٹا تیر رہا ہے

مزید پڑھیے

مری آنکھوں سے دیکھو

اک روز اپنے آپ کو میں نے خلا کی وسعتوں سے جھانک کر دیکھا تو وحشت میں پلٹ آیا کہیں پر دور اک نقطہ سا روشن تھا اور اس نقطے میں اک ذرہ نظر آیا زمیں کہیے زماں کہیے کہ اپنا آسماں کہیے سبھی کچھ اس میں گم پایا وہی ذرہ کہ جس کی وسعتوں کو بانٹ کر ہم نے کئی خطے بنا ڈالے اور ان خطوں میں ہم نے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 695 سے 960