رسی کا پل
رسی کا پل دیکھا بھالا ہچکولے مانوس گرہیں جس کی عقدوں سے پر طول سفر اک عمر رسی کا پل اک دن ٹوٹا اور مسافر گرتے گرتے اس کے دونوں ٹکڑے تھامے خود پل بن کر بیچ میں لٹکا جھول رہا تھا سیکڑوں آنکھوں کے جھرمٹ میں وہ مصلوب تماشہ بن کر ٹوٹے پل کو جوڑ رہا تھا اونچائی پر دونوں سروں کی جانب بے ...