شاعری

محبت

تمہیں یہ کس نے کہہ دیا آخر کہ کسی ریستوراں کے نیم تاریک گوشے میں بیٹھ کر مدھم سرگوشیوں میں مسکراتے لبوں سے بات کرنا اور آئس کریم کے کپ میں چمچ ہلاتے ہوئے خواہش دل کو زباں پر لے آنا محبت ہے تمہیں یہ کس نے کہہ دیا آخر کہ کسی رقص کدے میں ہم رقص کے بالوں کو چھوتے ہوئے دھیرے سے دل کش ...

مزید پڑھیے

سحر ہونے تک

ایک بجلی کے کھمبے تلے کتنے زندہ بچے اور کتنے جلے کس کو معلوم ہو کیسے معلوم ہو کوئی ان کا شریک شب غم نہ تھا شام سے تا سحر اپنے انجام سے بے خبر آتش سوز پنہاں میں جلتے رہے رقص کرتے رہے صبح ہونے سے پہلے سیہ رات کے قافلے سرد لاشوں کے انبار کو آ کے بکھرا گئے شکستہ پروں کو ہواؤں کے جھونکے ...

مزید پڑھیے

کاغذ کے پھول

پھول کاغذ کے ہیں خوشبو سے بہت دور ہیں یہ میری ماں تو انہیں بیکار چنا کرتی ہے چاندنی ہو کہ کڑی دھوپ کی گرمی کچھ ہو میری خاطر تو کہاں روز پھرا کرتی ہے میرے ملبوس محبت کا جو پیوند بنے مجھ کو اس ریشمی کپڑے کی ضرورت کیا ہے جو کبھی اپنا کبھی غیر کا بیمار بنے مجھ کو اس حسن کی یلغار سے ...

مزید پڑھیے

تقاضا

پھر رات کی تاریک ادائیں ہیں مسلط پھر صبح کے ہاتھوں سے حنا چھوٹ رہی ہے جو ہار تیرے واسطے گوندھا تھا کسی نے اس ہار کی اک ایک لڑی ٹوٹ رہی ہے جو ساز کبھی واقف اسرار جنوں تھا اس ساز کی رگ رگ سے لہو پھوٹ رہا ہے کیا ہوش تجھے ساقیٔ میخانۂ دنیا وہ کون سا ساغر ہے جو اب ٹوٹ رہا ہے تقدیر کو ...

مزید پڑھیے

بے باک اندھیرے

جب کبھی شب کے طلسمات میں کھو جاتا ہوں یا ترے حسن کی آغوش میں سو جاتا ہوں تیری تصویر ابھرتی ہے پس پردۂ خواب ایک ٹوٹے ہوئے بے لوث ستارے کی طرح چیر کر سینۂ آفاق کی تاریک فضا از‌‌ راہ وفا تیری تصویر اٹھا لیتا ہوں عارض و لب کے جواں گیت چرا لیتا ہوں دور تک جادۂ فردا پہ مہک اٹھتے ...

مزید پڑھیے

جب تمنائیں مسکراتی ہیں

جب تمنائیں مسکراتی ہیں پھول بنتی ہیں اور مہکتی ہیں کوئی چپکے سے میرے سینے میں صبح کا نور گھول جاتا ہے کھڑکیاں دل کی کھول جاتا ہے صاف شفاف سے دریچوں میں رقص کرتا ہے ماہتاب کوئی دل کی گہرائیوں میں گرتے ہی ڈوب جاتا ہے آفتاب کوئی چاند آتا ہے چاندنی لے کر جھک کے تارے سلام کرتے ...

مزید پڑھیے

افسانۂ شب رنگ

عارض گل پہ لرزتی ہوئی بیکل شبنم منتظر ہے کہ چلے باد سحر کوئی جھونکا کوئی سورج کی کرن پاس آ جائے تو افسانہ شب رنگ سنے نغمۂ زہرہ و ناہید کی جھنکار سنے بربط سلمیٰ کے تاروں کی صدائے دل کش آبشاروں کی ندا خارزاروں کی صدا پھول کے دل کی جلن سوزش مہتاب کا حال ڈوبتے تاروں کے خاموش نگاہوں ...

مزید پڑھیے

یقین

چاپ قدموں کی سنو رات کے تارے نہ گنو کوئی آئے گا بہ ہر حال ضرور آئے گا اپنی آنکھوں میں چھپائے ہوئے سپنے کل کے لے کے تابندہ نگاہوں کا غرور آئے گا یاس و حرماں کے اندھیروں میں ستارے بھر دو دل کے خوابیدہ دریچوں سے کہو آنکھ ملیں باد صرصر سے کہو جا کے چلے اور کہیں خواب فردا کے در و بام پہ ...

مزید پڑھیے

آج پھر سے موسم بدلا ہے

آج پھر سے وہ یاد آیا ہے ان لمحوں کا لمس ہاتھوں میں باقی ہے خزاں سرد موسم کی ردا اوڑھے بھٹکنے لگی ہے پھر سے یاد ہے وہ سب مجھ کو اب بھی اسی طرح ملتے جلتے موسم میں سمندر کنارے لہریں جب اچھلتی کودتی پیروں پہ دم توڑتی تھیں میرے ذہن کے اک اک گوشے میں یادیں ابھی بھی رقص کرتی ہیں بے خودی ...

مزید پڑھیے

چھپکلی

حجلۂ تاریک میں پائی ہے اس نے پرورش شمع جلتے ہی در و دیوار پر لے کے مٹیالا سا کاہیدہ بدن جھومتی سر مست آ جاتی ہے یہ پا بجولاں چند پروانوں کے پاس غوطہ زن پاتے ہی جن کو آبشار نور میں تیز چمکیلی نکیلی آنکھ سے یوں دیکھتی ہے بار بار جیسے اک سرمایہ دار مال و زر کی اوٹ سے کرتا ہے مفلس کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 674 سے 960