شاعری

امید

اے امید آ مرے گلے لگ جا کون میرا ہے جگ میں تیرے سوا دوست ممکن نہیں کوئی تجھ سا تو اگر ہے تو زندگی میری تیرے دم سے ہے ہر خوشی میری تیرے دم سے ہے دیتی ہے تو تسلیاں تیرے ہونے سے کامرانیاں گل آرزو کے کھلاتی ہے تو امیدوں کے گلاب مہکاتی ہے تو ہر ایک موڑ پر کھڑی ہے تو پھیلا دیتی ہے ...

مزید پڑھیے

دل کسی وادی میں جا کے سو گیا

چہکتے رہے مہکتے رہے برسوں کی دیوانگی کا نتیجہ نہ کوئی صلہ کیوں انتظار بہار کرتے رہے کانٹوں کو پیار کرتے رہے یہاں تک کہ سکوت طاری ہو گیا دل کسی وادی میں جا کے سو گیا

مزید پڑھیے

نیا سال

ہے انداز نیم سحر نرالا آج ہنس ہنس کے غنچوں کو گدگدایا آج آنگن میں در آئی نویلی کرن پہنے اجلا سنہری پیرہن بعد ثنا گیت چڑیوں نے گایا ہو مبارک سال نیا آیا نظر سے حوادث کی بچانا خدا ہر دن خوشی کا دکھانا خدا ہر نیا سال کہتے کہتے یہ آئے چمن سدا مسکرائے گل کھلائے

مزید پڑھیے

زبان

کسی بزرگ سے اک روز میں نے یہ پوچھا بھلا درستیٔ ایمان کا ہے کیا نسخہ کہا بزرگ نے اپنی زبان اچھی رکھ گرہ میں باندھ کے میری یہ بات سچی رکھ زباں درست تو پھر دل درست ہے تیرا ہو دل درست تو ایمان پختہ تر ہوگا زباں اہم ہے بدن کے تمام اعضا میں ملا زبان کو اعلیٰ مقام اعضا میں زباں سنبھال کے ...

مزید پڑھیے

مدرس

لوگ استاد جس کو کہتے ہیں اس کا رتبہ عظیم ہوتا ہے مرتبہ اس کا جو نہیں سمجھے وہ سدا زندگی میں روتا ہے علم کی ایک انجمن استاد پھول شاگرد اور چمن استاد کتنا اونچا مقام ہے اس کا ساری دنیا میں نام ہے اس کا ذہن و دل کو سنوارتے رہنا رات دن بس یہ کام ہے اس کا فکر اس کی جہاں مہکتی ہے راہ تاریک ...

مزید پڑھیے

پانی

پانی کو استعمال کرو احتیاط سے اور اس کی دیکھ بھال کرو احتیاط سے پانی تو ایک نعمت پروردگار ہے پانی ملے تو باغ ہے رنگ بہار ہے پانی سے لالہ زار رہ خار دار ہے پانی کا ہر کسی کو یہاں انتظار ہے پانی کو استعمال کرو احتیاط سے اور اس کی دیکھ بھال کرو احتیاط سے پانی ملے تو رہتی ہے کھیتوں ...

مزید پڑھیے

زندگی میں امنگ

چٹکتے ہیں غنچے مہکتی ہے چنبیلی ہے گلاب سے حسن چمن بلبل ہے جان چمن کرتی ہے کوئل کو کو بیٹھ کر آم کے پیڑ پر گر جاتے ہیں زرد پتے پھوٹتی ہے نئی کونپل نیم کا پیڑ ہو کر مست ہوا میں دہراتا ہے ماضی کی یادوں کو سایہ آدھا آدھی دھوپ میرے آنگن میں پرچھائیاں گلاب کی صحن چمن میں پڑتی ہیں سفید و ...

مزید پڑھیے

ہر شے گنگنانے لگی

چاہا اے زندگی میں نے تجھے اپنے کاموں سے فرصت ملی نہ مجھ کو پڑھنے کو کچھ لکھنے کو جی تڑپتا رہا فکر ایام گھر والوں کا خیال بچوں کے مسکراتے چہرے قلم ہاتھ سے میرے چھوٹتا رہا دل ناتواں کو بہلاتی رہی پھر بھی گیت زندگی کے میں گاتی رہی روشن سورج کی کرن آخر در آئی امیدوں کے چراغ جل ...

مزید پڑھیے

رشتے

نازک ہو گئے ہیں رشتے ٹوٹ رہے ہیں دھاگے کی طرح منہ موڑ لیتے ہیں لوگ دل توڑ دیتے ہیں رخ پھیر لیتے ہیں بس چلے تو یادوں کو بھی کھرچ ڈالیں تصور کو بھی دل سے نکال پھینکیں حسین وقت کی جو یادیں ہیں یہ مگر ہو نہیں سکتا پھر بھی توڑ کے رشتوں کو آتے ہیں پیش اجنبی کی طرح نازک ہو گئے ہیں رشتے ٹوٹ ...

مزید پڑھیے

تم مگر نہ آئے

چٹک گئے ہیں غنچے کھل گئے ہیں گل بھنورے منڈلائے ہوئے پھولوں سے کرتی ہے صبا اٹکھیلیاں دل باغباں کا ہے باغ باغ تم مگر نہ آئے تم مگر نہ آئے پیاسا ہے من جل رہا ہے تن بدن کلی امید کی مرجھا رہی ہے اب تو بن پئے برسات جا رہی اب تو ہو ہو کے آہٹیں ہو گئیں بند پیاسا ہے من جل رہا ہے تن بدن تم مگر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 657 سے 960