امید
اے امید آ مرے گلے لگ جا کون میرا ہے جگ میں تیرے سوا دوست ممکن نہیں کوئی تجھ سا تو اگر ہے تو زندگی میری تیرے دم سے ہے ہر خوشی میری تیرے دم سے ہے دیتی ہے تو تسلیاں تیرے ہونے سے کامرانیاں گل آرزو کے کھلاتی ہے تو امیدوں کے گلاب مہکاتی ہے تو ہر ایک موڑ پر کھڑی ہے تو پھیلا دیتی ہے ...