شاعری

وقت کی قیمت کیا ہے

کیوں چہرہ دیکھتے ہیں لوگ ہزاروں میں پہچانتے ہیں لوگ چھپتا ہے دل ہر کس و ناکس سے کہتے ہیں روشنی میں آ کہا ہوا سنا سنائیں کس طرح طاقت گفتار ہے اب نہ الفاظ کا وہ سحر حوصلہ جینے کا نہ آرزو موت کی دوراہے پہ کھڑی پوچھتی ہے زندگی وقت کی قیمت کیا ہے

مزید پڑھیے

شام عیادت

یہ کون مسکراہٹوں کا کارواں لئے ہوئے شباب شعر و رنگ و نور کا دھواں لئے ہوئے دھواں کہ برق حسن کا مہکتا شعلہ ہے کوئی چٹیلی زندگی کی شادمانیاں لئے ہوئے لبوں سے پنکھڑی گلاب کی حیات مانگے ہے کنول سی آنکھ سو نگاہ مہرباں لئے ہوئے قدم قدم پہ دے اٹھی ہے لو زمین رہگزر ادا ادا میں بے شمار ...

مزید پڑھیے

آزادی

مری صدا ہے گل شمع شام آزادی سنا رہا ہوں دلوں کو پیام آزادی لہو وطن کے شہیدوں کا رنگ لایا ہے اچھل رہا ہے زمانے میں نام آزادی مجھے بقا کی ضرورت نہیں کہ فانی ہوں مری فنا سے ہے پیدا دوام آزادی جو راج کرتے ہیں جمہوریت کے پردے میں انہیں بھی ہے سر و سودائے خام آزادی بنائیں گے نئی دنیا ...

مزید پڑھیے

جدائی

شجر حجر پہ ہیں غم کی گھٹائیں چھائی ہوئی سبک خرام ہواؤں کو نیند آئی ہوئی رگیں زمیں کے مناظر کی پڑ چلیں ڈھیلی یہ خستہ حالی یہ درماندگی یہ سناٹا فضائے نیم شبی بھی ہے سنسنائی ہوئی دھواں دھواں سے مناظر ہیں شبنمستاں کے سیارہ رات کی زلفیں ہیں رسمسائی ہوئی یہ رنگ تاروں بھری رات کے تنفس ...

مزید پڑھیے

آدھی رات

۱ سیاہ پیڑ ہیں اب آپ اپنی پرچھائیں زمیں سے تا مہ و انجم سکوت کے مینار جدھر نگاہ کریں اک اتھاہ گم شدگی اک ایک کر کے فسردہ چراغوں کی پلکیں جھپک گئیں جو کھلی ہیں جھپکنے والی ہیں جھلک رہا ہے پڑا چاندنی کے درپن میں رسیلے کیف بھرے منظروں کا جاگتا خواب فلک پہ تاروں کو پہلی جماہیاں ...

مزید پڑھیے

پرچھائیاں

۱ یہ شام اک آئینۂ نیلگوں یہ نم یہ مہک یہ منظروں کی جھلک کھیت باغ دریا گاؤں وہ کچھ سلگتے ہوئے کچھ سلگنے والے الاؤ سیاہیوں کا دبے پاؤں آسماں سے نزول لٹوں کو کھول دے جس طرح شام کی دیوی پرانے وقت کے برگد کی یہ اداس جٹائیں قریب و دور یہ گو دھول کی ابھرتی گھٹائیں یہ کائنات کا ٹھہراؤ یہ ...

مزید پڑھیے

ہنڈولا

دیار ہند تھا گہوارہ یاد ہے ہم دم بہت زمانہ ہوا کس کے کس کے بچپن کا اسی زمین پہ کھیلا ہے رامؔ کا بچپن اسی زمین پہ ان ننھے ننھے ہاتھوں نے کسی سمے میں دھنش بان کو سنبھالا تھا اسی دیار نے دیکھی ہے کرشنؔ کی لیلا یہیں گھروندوں میں سیتا سلوچنا رادھا کسی زمانے میں گڑیوں سے کھیلتی ہوں ...

مزید پڑھیے

جگنو

یہ مست مست گھٹا، یہ بھری بھری برسات تمام حد نظر تک گھلاوٹوں کا سماں فضائے شام میں ڈورے سے پڑتے جاتے ہیں جدھر نگاہ کریں کچھ دھواں سا اٹھتا ہے دہک اٹھا ہے طراوت کی آنچ سے آکاش ز فرش تا فلک انگڑائیوں کا عالم ہے یہ مد بھری ہوئی پروائیاں سنکتی ہوئی جھنجھوڑتی ہے ہری ڈالیوں کو سرد ...

مزید پڑھیے

اپنے لوگوں کے نام

غریب لوگو، ستم گزیدہ عجیب لوگو تمہاری آنکھیں جو منتظر ہیں کہ کوئی عیسیٰ نفس تمہارے بریدہ خوابوں کی لاش اٹھا کر پڑھے گا پھر سے وہ اسم اعظم کہ جس سے یہ خواب جی اٹھیں گے غریب لوگو، ستم گزیدہ عجیب لوگو یہ جان لو تم، کہ وہ پیمبر دلوں میں موجود ہے تمہارے تم اپنے بازو کماں کرو گے تم اپنے ...

مزید پڑھیے

وائٹ ہاؤس

درمیان واشنگٹن اک سفید بلڈنگ ہے جس میں ایک جادوگر اوڑھ کر عجب ٹوپی سرخ اور کچھ نیلی شعبدے دکھاتا ہے اس کے اک اشارے پر سب غریب ملکوں کے سربراہ آتے ہیں سر جھکائے جو اپنے ملک کے غریبوں کی عزت و انا اس کی سرخ نیلی ٹوپی میں کپکپاتے ہاتھوں سے ایسے ڈال جاتے ہیں جیسے اک مداری کے ڈگڈگی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 658 سے 960