ایسا کب تک چلے گا
کچھ کہنا ہے اور کچھ نہ کہے چلے جانا یہ کب تک چلے گا تمہارا ہم پر یوں مر مر کے جیے جانا ایسا کب تک چلے گا یہ جو تم نئے بہانوں سے ہمیں دیکھنے آتے ہو سب سمجھ آتا ہے ہم تمہیں دیکھ لیں اور تمہارا بے ساختہ منہ پھیر جانا ایسا کب تک چلے گا لو آ گئے تمہارے دوست پھر قاصد بن عاشق کا حال برا ہے ...