شاعری

ایسا کب تک چلے گا

کچھ کہنا ہے اور کچھ نہ کہے چلے جانا یہ کب تک چلے گا تمہارا ہم پر یوں مر مر کے جیے جانا ایسا کب تک چلے گا یہ جو تم نئے بہانوں سے ہمیں دیکھنے آتے ہو سب سمجھ آتا ہے ہم تمہیں دیکھ لیں اور تمہارا بے ساختہ منہ پھیر جانا ایسا کب تک چلے گا لو آ گئے تمہارے دوست پھر قاصد بن عاشق کا حال برا ہے ...

مزید پڑھیے

ہدایت

یہ جو تم میری خامیاں گنائے جا رہے ہو لکھ لوں کے ذرا یاد رہ جائے کروں میں بھی عشق بے حد سوچ سمجھ کر زندگی بھر کا مجھے بھی مفاد رہ جائے غضب مسئلہ ہے یہ محبت تمہاری سلجھا لو کہیں وہ لفظ اور یہ حرکت تمہاری نہ تضاد رہ جائے لیتے جاؤ یہ لکھے خط بھی تمہارے میرے آگے بڑھنے میں نہ یہ فساد رہ ...

مزید پڑھیے

تمہیں میری فکر نہیں

جس طرح رات کو ٹوٹے تارے کی نہیں گہرے سمندر کو آنسو کھارے کی نہیں گھمنڈی امارت کو اندروں گارے کی نہیں ہاں جیسے تھوڑے کو باقی سارے کی نہیں جس طرح گئے کو واپس پکارے کی نہیں حاکم شاہی کو کل کے مارے کی نہیں گزرے وقت کو پل گزارے کی نہیں ہاں جیسے عشق کو اس میں ہارے کی نہیں یعنی اس ...

مزید پڑھیے

قدم

چلے چلے جاتے ہیں قدم نظریں ملیں رک جاتے ہیں قدم منزل نا دکھے مڑ جاتے ہیں قدم منزل جو دکھے جڑ جاتے ہیں قدم سفر کرتے پیہم تھک جاتے ہیں قدم کچھ نوکیلا چبھ جائے رو جاتے ہیں قدم اس کے پاس آنے سے پیچھے جاتے ہیں قدم شرم کیوں اتنی کر جاتے ہیں قدم دیکھ بیٹھ یہاں سے کہاں جاتے ہیں قدم واپس ...

مزید پڑھیے

تبدیلی

کسی نے کہا کیسی پتھر دل ہے تو کیا یہ کب ہوا نہیں تو اس دل پر کچھ لگے چیخ اٹھتا ہے روتا ہے خون بہاتا ہے یقیناً پتھر تو ایسا نہیں کرتا یا پتھر کی طبیعت میں بھی بدلاؤ آیا ہے بدلاؤ اس موسم کی طرح بدلاؤ اس کی باتوں کی طرح بدلاؤ اس مقفل پڑے گھر کی طرح جو کبھی جھومتا تھا اک پریوار کے ...

مزید پڑھیے

کوئی بات نہیں

درد لکھا ہے اچھا لکھا ہے دل پر جو بیتی وہ کوئی بات نہیں ٹوٹ کر لکھنے لگی اچھا لکھنے لگی محبت ہے مجھ سے وہ کوئی بات نہیں خوش ہوں میں یہ کیا لکھا ہے لکھا ہے رو کر وہ کوئی بات نہیں آباد ہوں میں یہ کیا لکھا ہے ہاں لکھا برباد ہو کر وہ کوئی بات نہیں چلتے چلتے تھک گئی اچھا لکھا ہے پیہم ...

مزید پڑھیے

صدائے دل

سچا جھوٹھا جھوٹھا سچا وعدہ اک نادان کا ہے جلتے جلتے راکھ ہوا میرا مکاں امکان سا ہے پتے ٹہنی شجر جو ٹوٹے مسئلہ یہ طوفان کا ہے ریت ریت بن اڑتا جائے وہ جو کہے چٹان سا ہے ندی پرندے عنبر بولے سننا اس کی زبان کا ہے سنا میں نے دو بار سنا تیسرا اک گمان سا ہے کھیل نفرت کا ٹھیک نہیں وہ تیرے ...

مزید پڑھیے

کشمکش

آج کے دن جو اپنے ڈر کا اظہار کیا تو کہ میں تو اپنا لوں اسے موت نے انکار کیا تو وہ کچی سی عمر وہ پکا سا حادثہ اک کانچ کا محل آج سنگسار کیا تو اک روپ باہر اک ہے پیچھے اور اک ان کے بیچ میں نے غلط سے پیار کیا تو دل پر رکھ پتھر یا ہو پتھر دل ہو بہ ہو ان کی طرح ان پے وار کیا تو کہ رکتی ہیں ...

مزید پڑھیے

چھوڑ دے

کوئی آئے نہ آئے تو آس لگانا چھوڑ دے بہنے نہ لگے اشک آنکھوں سے تیری دل سے آنکھوں کا رشتہ نبھانا چھوڑ دے دوڑے جاتی ہے مسکراتے اک دستک پر وہ محبت ہے اداس ہو در سے اسے واپس موڑ دے بن جا بے جان اک زندہ لاش اکیلے بیٹھ اور کمبخت سوچنا چھوڑ دے حال تجھ سے دیکھا نہیں جاتا تو نہ دیکھ پتھر ...

مزید پڑھیے

سانپ! آ کاٹ مجھے

سانپ! آ کاٹ مجھے ایڑی پر میں تجھے دانۂ گندم کی قسم دیتا ہوں شہر کے اونچے مکانوں پہ چمکتا سورج مجھ سے کہتا ہے کہ تو ننگا ہے اور مری روح مجھے کہتی ہے جسم کو ڈھانک مری شہر میں تذلیل نہ کر مجھ کو احساس ہے میں ننگا ہوں صبح کے نور کے مانند مجھے کوئی ملبوس ازل سے نہ ملا سبز پتوں نے سہارا نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 653 سے 960