شاعری

موت

کیا ہر موت کے لئے ضروری ہوتی ہیں رکی ہوئی سانسیں پتھرائی آنکھیں چار کندھے اور گھر سے شمشان تک کی آخری دنیا داری کبھی کبھی موت کی نشانی ہوتیں ہے عمر سے زیادہ سمجھ داری والی باتیں ہمیشہ ہنسنے والے چہرے اور کبھی نا لڑنے والی محبتیں

مزید پڑھیے

سوال

جب میں نے کہا تھا تم سے کے مجھے تم سے محبت نہیں اور ایک گہری سانس لی تھی تم نے وہ کوئی بیان نہیں بلکہ ایک سوال تھا جواب تھی وہی گہری سانس

مزید پڑھیے

ایک عام واقعہ

مجھے نا سمجھنے والے کچھ نا سمجھنے والے اکثر ملتے ہیں اور آگے بھی ملتے رہیں گے دیکھو تمہارے ہونے نا ہونے سے کوئی خاص فرق نہیں آیا ان کی بے رخی اکثر تمہاری شکل لے لیتی ہے اور مجھے تمہاری کمی کا ذرا بھی احساس نہیں ہوتا کاش تمہیں بھی کچھ ایسے پاگل لوگ ملیں جو تمہیں سمجھنے کی ضد میں ...

مزید پڑھیے

صبحوں جیسے لوگ

صبحوں جیسے لوگ بہت اچھے لگتے ہیں نا لگتا ہے کہ بہت الگ ہیں باقی لوگوں سے لیکن امیدوں کے باعث وہ لوگ بھی اکثر ایک عرصے بعد کسی عام دن کی طرح ڈھل کے ناامیدی کی لمبی رات بن جاتے ہیں ان سے بہتر تو وہ لوگ ہوتے ہیں جو خاموش شاموں کی طرح امیدیں نہیں مگر سکون ضرور دیتے ہیں تم آئے تو تھے ایک ...

مزید پڑھیے

اتوار کی دوپہر

اتوار کی دوپہر تو ہمیشہ ہی اچھی ہوتی ہے بالکل تمہاری طرح بے فکر بے پرواہ آزاد میں نے بھی ہمیشہ اسے اپنے ہی طریقے سے بتایا ہے پر جانے کیوں کچھ عرصے سے جب بھی یہ سکون بھرا وقت اپنے ساتھ بتانے کی کوشش کی تم دور دراز کے وقتوں سے نکل کے چپ چاپ میرے قریب بیٹھ جاتے ہو میرے ہاتھوں کی کھلی ...

مزید پڑھیے

ندی

میں ندی ہوں اور مجھے فخر ہے اس بات کا کہ میں ندی ہوں چلتے رہنا میری عادت ہے اپنے راستے خود بنانا آتا ہے مجھے اور اچھا بھی لگتا ہے میں نہیں چاہتی کہ کوئی ایک دائرہ کھینچ کے بتا دے مجھے کہ اب تا عمر مجھے یہیں رہنا ہے ایک چھوٹا سا گول سا محفوظ دائرہ جہاں نا مجھے پتھروں سے ٹکرانا ...

مزید پڑھیے

میں کیسے بھولوں وہ راتیں

میں کیسے بھولوں وہ راتیں ایک رستہ چاند بناتا تھا جو خوابوں تک لے جاتا تھا ہم گھنٹوں کرتے تھے باتیں میں کیسے بھولوں وہ راتیں ننھے تاروں کے ساتھ کبھی جب آنکھ‌ مچولی کرتے تھے کچھ ہنستے تھے کچھ چڑھتے تھے کچھ باتیں بھولی کرتے تھے دیکھیں تھیں ہم نے ساتھ کئی ننھے تاروں کی باراتیں میں ...

مزید پڑھیے

کرایہ دار

ارے آؤ بے فکر ہو کے آؤ میری زندگی میں گھبراؤ نہیں کوئی ٹوٹ پھوٹ نہیں ہوگی تم سے آؤ تو دراصل یہاں کچھ باقی ہی نہیں ٹوٹنے کو ہاں کچھ پرانے خوابوں کی کرچیں ہیں تمہارے آنے تک صاف ہو جائیں گی اس کے بعد جو ہوگا سب تمہارا ہی ہوگا جاتے وقت جو کچھ سلامت بچے لے جانا خوابوں کی کرچیں گر رہ ...

مزید پڑھیے

تم آؤ گے

میں نے پوچھا تھا ستاروں سے اور اس پیلے گلاب کی پنکھڑیوں سے بھی ان کا سب کا ماننا تھا کہ وہ ہوا کا جھونکا سچ کہہ رہا تھا کہ تم آؤ گے پھر میں نے باقی سب سے بھی پوچھا وہ نیم کا درخت اس میں رہنے والی وہ چڑیا اس کے ساتھ کھیلنے والی نرم دھوپ اور ٹہنیوں میں چھپنے والا چاند ایک ایک کر سب سے ...

مزید پڑھیے

نفرت

جو لوگ تم سے نفرت کرتے ہوں گے اب کچھ تو کرتے ہی ہوں گے آخر کس بات پہ نفرت کرتے ہوں گے بہت ڈھونڈھی ہے میں نے بھی وہ ایک بات یا وہ ساری باتیں جو میرے دل میں بھی نفرت پیدا کر دیں زیادہ نہیں بس اتنی کہ میں سکون سے جی سکوں دو ایک نکیلے عیب جن سے کھرچ دوں تمہاری تصویر ان آنکھوں سے اور چین ...

مزید پڑھیے
صفحہ 652 سے 960