شاعری

سپردگی

اس نے اپنی سوندھی سوندھی مٹی گوندھی تھی اور عجب سرشاری سے پیار کے چاک پہ رکھ دی تھی میں اپنے دونوں ہاتھوں کی پوروں میں جاگ اٹھا تھا

مزید پڑھیے

مشورہ

زندگی ڈرامے سے نہیں بنتی ڈراما زندگی سے بنتا ہے

مزید پڑھیے

آخری بات

دنیا کی مٹی سونا اگلتی ہے اور مٹی کا سونا موت کا زیور بنتا ہے

مزید پڑھیے

آدھی رات کا منتر

یہ سایہ تو میرے ہی اندر سے نکل کر بھاگ رہا ہے مائی تم یہ کیا چھنکاتی ہو آدھا بھائی جاگ رہا ہے

مزید پڑھیے

دو طرح سے

دو طرح کے ہیں بدن دو طرح کے پیرہن اک سجل بے رنگ ریشم سا لباس جس میں لپٹا میرا فن جس میں پلتے ہیں خیال اک طرح کا پیرہن تازہ اجلے سوت کا جس میں رکھا ہے بدن اور میرے خط و خال پیرہن اوپر کا اترے تو پہن لوں میں کسی دیوار کو یا گماں کو چھوڑ کر میں یقیں کو اوڑھ لوں پیرہن اندر کا اترے اور ہوں ...

مزید پڑھیے

افسوس

مگر ہم نے دیکھا کہ ویران گھاٹی کا دامن بھرا تھا بہت ساری چیزیں ہواؤں کے پاؤں سے الجھی ہوئی تھیں دعاؤں کی خالی اور اوندھی پڑی شیشیاں اور ٹوٹی ہوئی پنجگانہ نمازیں نوافل و صیام کی سخت ڈھالیں مساجد کے رستوں میں توڑی گئی جوتیوں اور قدم در قدم نیکیوں کی قطاریں وظائف و درود و مناجات ...

مزید پڑھیے

برف کا لفظ

ریت ہمارے تلوے بھونتی ہے اور آنکھیں لال کرتی ہے جھیل پر کچھ نظر نہیں آتا چاند ہمارے خوابوں سے نکل کر سرحدوں پر ڈھیر ہو گیا ہے کنارے پر گرے بیج آنکھیں کھولتے ہیں اور پھر ہمیشہ کے لئے موند لیتے ہیں زعفران کا کھیت اس بار بھی بار آور نہ ہوا کون کریدے مٹی اور اپنا نصیب تلاش کرے زمین کو ...

مزید پڑھیے

مقدر

چڑیا نے تو سوچی تھی اک اونچی پرواز لیکن ظالم باز

مزید پڑھیے

سال گرہ

یاد نہیں کیا بھرے پرے بازار سے جب میں خالی خالی لوٹ آیا تھا اور اک پھول تیرے چمکتے ہاتھ پہ رکھ کر میں نے کہا تھا تیری پسند کے رنگ کا کپڑا مل نہ سکے تو میرے کوٹ کی جیب میں رکھے نوٹ کی قیمت گر جاتی ہے

مزید پڑھیے

قصہ خوانی

سن کے بھی چپ ہی رہا تلخ باتیں مشک بار افغانی قہوے کے رسیلے گھونٹ میں گھل مل گئیں یہ حقیقت اور تھی کہ باپ دادا قصہ گو مشہور تھے اس لیے وہ چپ رہا تاریخ کے نقشے میں جن شہروں کی شہرت گونجتی ہے وہ خموشی کے اس ازلی رنگ سے ظاہر ہوئے جس سے شناسائی نہیں ہے اس ہجوم شور و شر کی اس نے سوچا یاد ...

مزید پڑھیے
صفحہ 61 سے 960