شاعری

شکایت

شفق کی دلہن اپنے غرفے سے کب تک مجھے دیکھ کر مسکراتی رہے گی سنہری لبادے کی زر کار کرنیں کہاں تک یوں ہی گنگناتی رہیں گی کہاں تک زمرد کے پردے پہ یہ سرخ پھولوں کے نغمے مچلتے رہیں گے کہ آخر کوئی چاند کوئی اندھیرا کسی شرق تیرہ کے در سے نکل کر ابھی اس کو پہنائے گا تیرگی کا وہ جامہ کہ اس کی ...

مزید پڑھیے

مینار سکوت

وقت کو صحرا کہوں یا بحر بے ساحل کہوں رات ہے ریگ رواں کی لہر یا کہ موج آب زندگی تارے جگنو ہیں کہ موتی پھول ہیں یا سیپیاں کہکشاں ہے دھول تاروں کی کہ موج پر خروش و در فشاں سوچ کی چنگاریاں اڑتی ہیں یوں جیسے دل پر چوٹ پڑتی ہو کسی احساس کی جیسے میں تنہا نہیں وقت کے صحرا میں جیسے ان گنت ...

مزید پڑھیے

وادی نیل

جمال مرگ آفریں! یہ شب میری زندگی ہے نچوڑ دے اس کے چند لمحوں کی عشرتوں میں وہ مے وہ نشہ کہ ساغر ماہ وصال میں ہے وہ مے کہ تیرے جمال میں ہے وصال میں ہے وصال! تیرا وصال وہ شعلہ اجل ہے کہ جس میں جل کر کئی پتنگے ابد کی منزل کو پا چکے ہیں ابد کی منزل! سحر کی پہلی کرن وہ ناگن کہ میرے سینے سے ...

مزید پڑھیے

رنگ گفتگو

ناز تھا خوبئ گفتار پہ مجھ کو لیکن آج پھولوں نے پکارا مجھے رنگ و بو سے تو نظر آیا کہ پتھر بھی زباں رکھتے ہیں ہر مکاں مکینوں کی ہے تفسیر نظر شوکت شاہ کا عنوان بنا اس کا محل سنگ دیوار نے دی اس کے تحفظ کو زباں جھونپڑی غربت مزدور کی ہے مرثیہ خواں چیتھڑے چیختے ہیں جیب کی ناداری پر آبلہ ...

مزید پڑھیے

انار کلی

تیرے غم میں کتنا نازک ہو گیا ہے دل کہ اب اس بھرے بازار میں ہر صدا اک اجنبی احساس کا آئینہ ہے آج تیرے غم سے فارغ ہو کے میں بہہ رہا ہوں لذت اظہار کے سیلاب میں لڑکھڑاتے رینگتے لنگڑاتے ہنستے بولتے لفظ اور ان کا دھواں خوشبو چمک چل رہے ہیں مل کے بے آہنگ آوازوں کے رنگ اجنبی ہونٹوں کے ...

مزید پڑھیے

سوالی

گزر رہے ہیں برابر تباہیوں کے جلوس یہ زندگی کے مسافر کہاں چلے جائیں یہ اشتہار غموں کے الم کی تصویریں یہ زندگی ہے نہیں گرد زندگی بھی نہیں جواں امیدیں فضائے حیات سے مایوس تنور سینہ کا ایندھن ہیں وہ تمنائیں جلی حروف میں یہ حادثوں کی تحریریں کہ جن سے دل کے اندھیرے میں کچھ کمی بھی ...

مزید پڑھیے

خبر

بیل نے گائے کا منہ چوما خبر بن نہ سکی دیکھنے والوں کو عرفان نظر ہو نہ سکا گھوڑے نے گھوڑی کا منہ چوما خبر بن نہ سکی ہنہنایا پہ کوئی اہل خبر ہو نہ سکا یہ خبر ہے کہ سر راہ کسی لڑکی کو چومتا پکڑا گیا ایک شرابی لڑکا وہیں قانون کی زنجیر گراں طوق بنی وہیں اخبار کی سرخی نے انہیں جا ...

مزید پڑھیے

سچائی کی نمود

زندہ لہو کے عظم کی تعظیم کر نہ کر ابھرے گا اس لہو کے تموج سے انقلاب سچائی کی نمود کو تسلیم کر نہ کر کچے گھروں کی کوکھ سے پھوٹے گا انقلاب تو شب کے خد و خال میں ترمیم کر نہ کر

مزید پڑھیے

واہمہ

زندگی کے ایسے دوراہے پر آ کر رک گیا ہوں ہر مسافر کہر آلودہ فضا میں ہر قدم احساس کی ڈوری سے انجانے سفر کے دھوپ چھاؤں ناپنے میں ایک اندھے کی طرح خالی ہواؤں میں چھڑی لہرا رہا ہے جس طرح جلتے ہوئے معذور پتوں کا ہوا کے رخ پر اٹھتا ہے دھواں اوہام کی چادر چڑھانے راستہ دکھلانے والے چاند ...

مزید پڑھیے

سنبھل کر چل

سنبھل کر چل بہت گہرا اندھیرا ہے تمہیں غاروں میں ایسا غار کم ہی مل سکے گا یہاں دھرتی نہیں کچھ آسماں سا ہے درخت اس نیلی چھت کے ساتھ یوں چپکے ہیں جیسے یہ اسی امبر کا حصہ ہوں کئی دن سے یہ سب نیلے درخت اس آسماں سے اگ رہے ہیں ابھی میں تم سے کیا کہنے لگا تھا سنبھل کر ہاں مجھے کہنا تھا کہ اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 60 سے 960