یاد
کسی برباد علاقے سے نکلی ایک گلی ہے جس میں ہر شے اپنی موت کے بعد آتی ہے
کسی برباد علاقے سے نکلی ایک گلی ہے جس میں ہر شے اپنی موت کے بعد آتی ہے
پھول تھے اور قہر خوشبو کا خوف کے گھنگھرو چھن سے بجنے لگے چاندنی کو فروغ تھا اتنا رات بھر اس طلسم کا فتنہ سر اٹھاتا رہا مرے اندر سحر میں قید آرزو میں گم سب کے سب ہم سب کے سب تم جان جوکھوں میں ڈال کر نکلے اک کشادہ مکان کی چھت پر نرگسی چہرے بال کھولے ہوئے ماتمی سر میں گیت گاتے ...
اک ٹھٹھرتی صبح ہے ڈاک خانے کی گلی میں زرد پتے اڑ رہے ہیں کپکپاتی انگلیوں سے لکھا ایڈریس ہر کوئی پڑھ لیتا ہے دوپہر کے باغ میں داؤدی پھولوں اور اس کے درمیاں نوجوانی کے دنوں کی ایک یاد دیر تک ہنستی رہی سہ پہر ہے اور وہ کونے والی شاپ سے اک غبارہ لے رہی ہے لفظ ہونٹوں سے اڑانیں بھر رہے ...
چڑیا نے تو سوچی تھی اک اونچی پرواز لیکن ظالم باز
نوحے لکھتے لکھتے یہ دل تھک جاتا ہے بکھرے ہوئے ہیں سب دل والے ہم متوالے تنہا ہیں روشنیوں کے بیٹے تاریکی میں آ کر چمکیں ہم راہوں میں تیار ملیں گے جو یلغار یہاں بھی ہوگی ہم اپنے خوں کے فواروں کو عام کریں گے ایک چراغاں کوچۂ رسوائی میں اک بالائے بام کریں گے ان روزوں میں یہ دل تھک کر سو ...
زمین کا وجود میرے انتظار میں تھا میری صدا کو روشنی کی شناخت کے لیے سنا گیا جو ازلی پانیوں سے فوارے کی طرح پھیل رہی تھی میں تیز تیز آبشار کی طرح زمین کے منہ میں گر رہا تھا زمین کا منہ گلاب کے پھول کی طرح ہوا میں وا ہو رہا تھا پہلی بار جب میں آسمان سے گرا تھا زمین نے میری آواز کو ...
وہ برفانی رات بادام اخروٹ اور ستو سرما کا شہد اور ساگ کی خوشبو اور اک لوک کہانی میں گم آگ کے گرد میں اور تم آؤ چلیں چرخے کی آواز میں ڈوبی اس بستی میں شام جہاں پر ایسے اترے جیسے کسی بیمار بدن میں جیون رس برف کی رت کا پہلا دن کتنا سفید اور آزردہ ہے دریا اپنی مجبوری کا گدلا پانی اور ...
وہ الٹی شلوار پہن کر لوگوں سے یہ کہتا ہے سرکار بھی الٹی ہے شلوار بھی الٹی ہے
وہ چھتری کی طرح کھل کر ملی ہے گلی میں آج بارش پھر رہی ہے میں اس کی دھوپ میں بیٹھا ہوا ہوں یہ اس کے ساتھ پہلی جنوری ہے
وہ الٹی شلوار پہن کر لوگوں سے یہ کہتا ہے سرکار بھی الٹی ہے شلوار بھی الٹی ہے