شاعری

لفظ پروں کی طرح ہوتے ہیں

تمام دن تمہارے میسیجز میرے دل کی منڈیروں پر کبوتروں کی طرح اترتے ہیں سفید دودھیا سیاہ چشم شربتی اور سرمئی مائل جنگلی کبوتر جن کے سینے کے بال کئی رنگوں میں دمکتے ہیں سبز گوں نیلگوں اور تابدار تپتے ہوئے تانبے کے جیسے میں ان کی زبان سمجھتی ہوں غٹرغوں غٹرغوں کتنی پرواز کر کے آتے ...

مزید پڑھیے

دو لفظوں کی دوری پر چاہتوں کے موسم

یاد ہے اس نے مجھ سے کہا تھا جاناں بیٹھو آج بڑے دن بعد آئی ہو شاید تم تو ان گلیوں کو ان رستوں کو دروازوں کو اک مدت سے بھول چکی ہو رشتوں کے دروازوں سے دروازے ملتے ہیں اور دیواریں دیواروں سے آنکھوں سے اوجھل ہونے سے رشتے کم نہیں پڑ جاتے اس نے کہا پھر بیٹھو جاناں چائے پیو گی آج تمہیں ...

مزید پڑھیے

بابل تیری یاد

بابا ایسے میں تم یاد بہت آتے ہو کیسی رت ہے ایسی رت میں آنکھیں کیوں بھر آتی ہیں کیوں تن من سے ہوک اٹھتی ہے کیوں جیون بے معنی سا لگنے لگتا ہے گھر سونا ویران یہ آنگن اور کمروں میں وحشت بابل میں تنہا میری قیمت تجھ بن کیا ہے کچھ بھی نہیں ہے میں تو کانچ کا موتی ہوں بابل کا آنگن تو ساون ...

مزید پڑھیے

میں ایک رات تھی

میں رات تھی سیاہ رات ایک نقطے میں سمٹی ہوئی آنکھ کی پتلی جیسے نقطے میں میں نے ایک دن کو باہر نکالا پھر اس دن کی با ایں پسلی سے خود باہر نکلی پھر مرے اندر کتنے سورج چاند اور ستارے اپنی اپنی منزلیں طے کرنے لگے میں رات ہوں کبھی نہ ختم ہونے والی رات میں نے اپنی پوشاک کا رنگ پیدا کیا ...

مزید پڑھیے

ماس خور

ہم اپنے شکستہ جسموں اور اپاہج روحوں کے ساتھ زندگی بسر کر رہے تھے اس اپاہج پن کو دور کرنے کے لیے ایک دوسرے کے جسموں اور نظموں میں پناہ گزیں ہوئے تو تاک میں بیٹھے وحشتوں کے درندوں نے ہمارے جسموں کو نگل لیا اور ہمیں انسان سے گدھ بنا دیا ہمیں نہ ختم ہونے والی بھوک نے آ لیا اب ہم اپنے ...

مزید پڑھیے

آگہی کا دکھ

آگہی کا دکھ تم کیا جانو کس اذیت سے گزرنا پڑتا ہے جب اس کے سانپ گلے میں لپٹ جاتے ہیں اور بھینچتے ہیں سانسیں رک جاتی ہیں بار بار پھنکارتے اور ڈستے ہیں صبح و شام رات دن ان کا زہر رگ و پے میں اتر جاتا ہے میرے لہو میں سرایت کرتا ہے میں ٹوٹتی پھوٹتی رہتی ہوں کانچ کی طرح ریت کی ...

مزید پڑھیے

میں دریوزہ گر

تم نے کبھی سوچا ہے تمہاری یہ گہرے سناٹوں میں ڈوبی خامشی اس دریوزہ گر پر کتنی بھاری پڑتی ہے وہ باتیں جو تمہارے مزاج معلیٰ کی نفاستوں پہ گراں گزرتی ہیں میرے لیے کیا معنی رکھتی ہیں کیا کبھی تم نے پر سکوت سمندر کے اندر بپھری ان لہروں کی آواز سنی ہے جو کسی طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ...

مزید پڑھیے

بادل سے مکالمہ

کیسا ابر ہے جس کے برسنے کی ہر پل امید لیے آنکھیں تشنہ لب رہتی ہیں اس کو دیکھ کے یہ کشت بارانی بھرتی ہے یہ جنموں کی پیاس ہو جیسے اس مٹی کی ایک اک بوند اترتی مجھ سے باتیں کرتی ہے پہلے میں بارش کو دیکھ کے خوش ہوتی تھی اب میں اس میں بھیگ کے اس کی باتیں سنتی ہوں

مزید پڑھیے

نظم کا کچھ بھی نام نہیں

شہزادے اے ملک سخن کے شہزادے دیکھو میں نے نظم لکھی ہے نظم کہ جیسے دل کا شہر شہر کہ جس میں تم رہتے ہو آدھے ہنس ہنس باتیں کرتے اور آدھے گم صم رہتے ہو تمہیں ادھوری باتیں اور ادھوری نظمیں اچھی لگتی ہیں نا تم کہتے ہو بات ادھوری میں بھی اک پورا پن ہوتا ہے خاموشی کے کتنے معنی ہوتے ہیں کچھ ...

مزید پڑھیے

آنچل کے پلو کو گانٹھ نہیں لگتی

آج تمہارے شہر سے واپس لوٹ رہی ہوں لیکن کیسے ثابت و سالم کون پلٹ کر جاتا ہے کس دل سے آئی تھی میں تم سے ملنا کیسا ہوگا جانے کیا کچھ من میں تھا تم سے ملوں گی اور تم سے ملوں گی اور بہت سی باتیں ہوں گی کچھ ہونٹوں سے بہہ نکلیں گی کچھ آنکھیں تحریر کریں گی لیکن یہ سب خواب تھا میرا دیکھو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 568 سے 960