نظم کا کچھ بھی نام نہیں
شہزادے
اے ملک سخن کے شہزادے
دیکھو میں نے
نظم لکھی ہے
نظم کہ جیسے دل کا شہر
شہر کہ جس میں تم رہتے ہو
آدھے ہنس ہنس باتیں کرتے
اور آدھے گم صم رہتے ہو
تمہیں ادھوری باتیں اور ادھوری نظمیں
اچھی لگتی ہیں نا
تم کہتے ہو بات ادھوری میں بھی اک پورا پن ہوتا ہے
خاموشی کے کتنے معنی ہوتے ہیں
کچھ باتیں ان کہی مکمل
شہزادے
میں نظم ادھوری لکھ لائی ہوں
تم اس نظم کو عنواں دے دو
تم یہ نظم مکمل کر دو
لیکن تم اس گہری چپ میں
کیا اس نظم کو تم انجام نہیں دو گے
اس کو نام نہیں دو گے