شاعری

آدمی

توصیف بے کنار کا حق دار آدمی دنیائے شش جہات کا سردار آدمی سچ پوچھئے اگر تو ہے دونوں جہان میں تخلیق ذوالجلال کا شہکار آدمی خونخوار آدمی کہیں غم خوار آدمی دیں دار آدمی کہ گناہ گار آدمی آدم کے دونوں بیٹوں کی صورت جہان میں ہے آدمی سے برسر پیکار آدمی نادار آدمی کوئی زردار ...

مزید پڑھیے

میں خود سوچتا ہوں

حادثے زندگی کی علامت ہیں لیکن وہ اک حادثہ ہم جسے موت کہتے ہیں کب اور کیسے کہاں رونما ہو کوئی جانتا ہے بلا ریب کوئی نہیں جانتا میں خود سوچتا ہوں مجھے ایک مدت سے کیا ہو گیا ہے میرے پھیلے ہوئے جاگتے زندہ ہاتھوں کی سب انگلیاں سو چکی ہیں میرے لرزاں لبوں پر جمی پیڑیاں برق سے راکھ ہوتے ...

مزید پڑھیے

میں اپنے آپ سے کب تک تمہارا نام پوچھوں گا

پرندوں سے سبق سیکھا شجر سے گفتگو کی ہے سواد جاں کی خاموشی میں ٹھہرے ابر تنہائی کی اودی زرد چادر پر شعاع یاد کے ہاتھوں لکھی ہر بے نوا لمحے کی پوری داستاں میں نے پڑھی ہے نشاط انگیز راتوں اور خوابوں کے شفق آلود چہرے کو جھلستے دن کی خیرہ کن فضا میں ایک عمر رائگاں کے آئنے میں محو ہو ...

مزید پڑھیے

بے ہنر ساعتوں میں اک سوال

نزول کشف کی رہ میں سفید دروازے قدم بریدہ مسافر سے پوچھتے ہی رہے ترے سفر میں تو اجلے دنوں کی بارش تھی تری نگاہوں میں خفتہ دھنک نے کروٹ لی بلا کی نیند میں بھی ہاتھ جاگتے تھے ترے تمام پہلو مسافت کے سامنے تھے ترے تری گواہی پہ تو پھول پھلنے لگتے تھے ترے ہی ساتھ وہ منظر بھی چلنے لگتے ...

مزید پڑھیے

نجات

دکھتے ہوئے سینوں کی خوشبو کے ہاتھوں میں ان جلتے خوابوں کے لہراتے کوڑے ہیں جنہیں وہ اک گہنائے چاند کی ننگی کمر پہ برساتی رہتی ہے تیرگی بڑھتی جاتی ہے اور ہمارا چاند ابھی تک ایسی کہنہ سال حویلی کا قیدی ہے جسے ہوا اور بادل نے تعمیر کیا ہے جس کی گیلی دیواروں پر منڈھی ہوئی بیلوں ...

مزید پڑھیے

باقی دائرے خالی ہیں

رنگوں اور خوشبوؤں کی تخلیق سے پہلے مرنے والے لمحے کی نم آنکھوں سے آئندہ کے خوابوں کی عریانی کا دکھ جھانک رہا تھا خط شعور سے آج اگر ہم اس لمحے کی سمت کبھی دیکھیں تو روح میں جاگتی گیلی مٹی کی آواز سنائی دیتی ہے یہ دنیا تو مٹے ہوئے اس دائرے کی صورت کا عکس ہے جس میں سوچوں آنکھوں اور ...

مزید پڑھیے

پورا چاند نکلتا ہے تو بھیڑیا اکثر روتا ہے

پورا چاند نکلتا ہے تو بھیڑیا اکثر روتا ہے رات کو کتا بھوں بھوں کرتا دن کو الو سوتا ہے شیر کی خالہ بلی اس کو کیا کیا سبق پڑھاتی ہے کھمبا نوچنے لگتی ہے بیچاری جب کھسياتی ہے بھینس کے کان سے کالا کوا جوئیں چگتا جاتا ہے بولی بھینس کہ ''اے کوے کیوں میرے کان تو کھاتا ہے'' اونٹ کی کل ...

مزید پڑھیے

تمہارے بغیر

یہ ماہ و سال کی گردش یہ میری تنہائی یہ زندگی کا سفر اور یہ آبلہ پائی بہت حسیں ہے یہ منظر مگر تمہارے بغیر مرے وجود پہ ہر دم ہے مردنی چھائی اگرچہ عام ہے فطرت کا حسن ہر جانب مرے لئے تو کشش اس میں ہے نہ زیبائی یہ کائنات و کواکب یہ کہکشاں یہ شہاب زمین کا یہ تسلسل فلک کی پہنائی بلندی کوہ ...

مزید پڑھیے

لا حاصل

ملگجے سے دھندلکے میں جب تم یونیورسٹی سے لوٹ رہے ہوتے ہو وہیں کیمپس کے باہر میں بھی تو بیٹھی ہوتی ہوں کبھی نہ ختم ہونے والے انتظار میں میں تمہیں دیکھ رہی ہوتی ہوں اور تم پاس سے ایسے گزر جاتے ہو جیسے واقف ہی نہ ہو میں وہیں دہلیز پہ بیٹھی رہ جاتی ہوں پھر پل کے پاس سے جب تم گزرتے ...

مزید پڑھیے

شہزادے

میں نظم ادھوری لکھ لائی ہوں تم اس نظم کو عنواں دے دو تم یہ نظم مکمل کر دو لیکن تم اس گہری چپ میں کیا اس نظم کو تم انجام نہیں دو گے اس کو نام نہیں دو گے

مزید پڑھیے
صفحہ 567 سے 960