شاعری

راز

زمیں سے فلک تک آخری جھلک تک مراسم دلوں کے بے نام منزلوں کے خلاؤں سے گفتگو اپنی ہی جستجو چاہتوں کے سلسلے صدیوں کے مرحلے اور چھور سے نہیں کوئی قافلے ہی قافلے انسانی جسموں کے تہذیبی قسموں کے ہر جسم ایک طلسم ہے ہر طلسم ایک دل ہے اس دل کے راز سمجھنا باقی ہیں ابھی

مزید پڑھیے

کام والی

جنگلی پھول کی طرح قدرتی حسن لیے جیسے ادھ پکے پھل کو کھانے بے چین ہو جائے کوئی صرف ایک سوتی ساری کا لباس سندر سڈول بدن جیون کی گھر گرہستی میں رکھا تھا قدم ایک دوشیزہ نے جب وقت کی سلوٹوں نے بنا دیا بد رنگ نشان ایک صحت مند جسم کو کر دیا کمزور سالانہ پیداوار کی طرح بچوں کی پیدائش ...

مزید پڑھیے

قدرت

پتے سارے کے سارے ہرے بھرے تھے کبھی دھیرے دھیرے ایک ایک پتہ پیلا ہو کر دم توڑ رہا ہے جڑا تھا جن سے اب ان کا ساتھ چھوڑ رہا ہے قدرت کا قانون یہی ہے تبھی تو پھوٹیں گی نئی نئی کونپلیں

مزید پڑھیے

دو پایہ

دو پایہ کوئی نہیں سوچتا اک دن فنا ہو جائے گا ہمارا وجود زندگی ہے تو جینا ہے بلا وجہ بے سبب کتنی حیران پریشان کتنی بے نام بے جان کبھی لگتی ہے جیسے ہوتے ہیں چوپایہ ہم بھی کہیں دو پایہ تو نہیں انسان کی شکل میں

مزید پڑھیے

تلاش

حسرتوں کی پیاس لے جائے گی کہاں کہاں صحراؤں میں سمندر میں نیلے کھلے امبر میں چھان ماری خاک زمیں سے آسماں تک جسم سے جاں تک یہی تلاش قائم رکھے گی وجود دنیا کا تا قیامت سفر حیات کا حیوان سے انساں تک

مزید پڑھیے

بیج

بار بار روندا گیا احساس کچلا گیا جذبہ توڑا گیا یقین مٹایا گیا نشاں دفنایا گیا زندہ اجاڑا گیا بے وجہ پھر بھی نہ مرا نہ ٹوٹا نہ چھوٹا دلوں کی نرم نازک مٹی میں پھلتا پھولتا رہا محبت کا ننھا بیج

مزید پڑھیے

قیامت

سنتے تھے گناہوں کی انتہا زمیں پر حد سے جب بڑھ جائے گی تو قیامت برپا ہوگی برسے گی آگ آئے گا سیلاب قدرت کا قہر نازل ہوگا اللہ رحم کرے آج اس ہولناک دور سے گزر رہے ہیں ہم جہاں زمیں کے ہر خطے میں ٹکڑوں ٹکڑوں میں زندگی ہو رہی ہے تباہ کہیں جنگ کہیں وحشت کہیں بھوک کہیں دہشت گونجتے ...

مزید پڑھیے

دھیان قبر میں اترتا خیال

میرا رستہ قبرستان سے ہو کر آگے جاتا ہے اس رستے سے اور بھی لوگ گزر کر آگے جاتے ہیں لیکن میرے ساتھ ہی آخر سائے سے کیوں رہتے ہیں میرے من میں آخر کیسی ویرانی قبروں کی ہے رات کی خاموشی میں جھینگر کی ہیں کیسی آوازیں کچھ دن سے مٹی کی خوشبو کیوں چپکی ہے سانسوں سے میرے پاؤں خاک سے لگ کر کس ...

مزید پڑھیے

تقسیم وزارت

منسٹر مجھ کو بنوا دو خزانہ جات کا ماموں حکومت ہی تمہاری ہے تو ڈر کس بات کا ماموں میں کب کہتا ہوں یو ایس کی سفارت چاہئے مجھ کو خزانے اور کھانے کی وزارت چاہئے مجھ کو یہ میری چیز ہے غیروں کو ہتھیانے نہیں دوں گا میں کسٹم کا ادارہ ہاتھ سے جانے نہیں دوں گا زراعت میں بہو کو شعبۂ باغات دے ...

مزید پڑھیے

منی بس کا سفر

کنوینس کچھ بھی جب نظر آیا نہ دائیں بائیں سوچا کہ آج ہم بھی منی بس میں بیٹھ جائیں جانا تھا لالو کھیت چڑھے تھے صدر سے ہم رخصت ہوئے تھے سر بہ کفن اپنے گھر سے ہم ہر راہ بس کی شہر خموشاں کی راہ تھی ہر سیٹ بس کی آخری آرام گاہ تھی رقاص خوش ادا کی طرح ہل رہی تھی بس نا آشنا ٹرک سے گلے مل رہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 531 سے 960