احساس کی رات
مجھے ڈر ہے کہ کہیں سرد نہ ہو جائے یہ احساس کی رات نرغے طوفان حوادث کے ہوس کی یلغار یہ دھماکے یہ بگولے سر راہ جسم کا جان کا پیمان وفا کیا ہوگا تیرا کیا ہوگا مرے تار نفس تیرا کیا ہوگا اے مضراب جنوں یہ دہکتے ہوئے رخسار یہ مہکتے ہوئے لب یہ دھڑکتا ہوا دل شفق زیست کی پیشانی کا رنگیں ...