شاعری

احساس کی رات

مجھے ڈر ہے کہ کہیں سرد نہ ہو جائے یہ احساس کی رات نرغے طوفان حوادث کے ہوس کی یلغار یہ دھماکے یہ بگولے سر راہ جسم کا جان کا پیمان وفا کیا ہوگا تیرا کیا ہوگا مرے تار نفس تیرا کیا ہوگا اے مضراب جنوں یہ دہکتے ہوئے رخسار یہ مہکتے ہوئے لب یہ دھڑکتا ہوا دل شفق زیست کی پیشانی کا رنگیں ...

مزید پڑھیے

یاد ہے

کھیلتا تھا جب لڑکپن سے ترا رنگیں شباب ہٹ رہی تھی ماہ عالم تاب کے رخ سے نقاب زندگی تھی حسن نو آغاز کا رنگین خواب یاد ہے وہ نوجوانی کا زمانہ یاد ہے جب کہ ساز زندگی نغمات سے معمور تھا ذرہ ذرہ میرے دل کی خاک کا جب طور تھا میں اکیلا ہی نہیں سارا جہاں مسرور تھا یاد ہے وہ نوجوانی کا ...

مزید پڑھیے

نیند

یہ کس پیکر کی رنگینی سمٹ کر دل میں آتی ہے مری بے کیف تنہائی کو یوں رنگیں بناتی ہے یہ کس کی جنبش مژگاں رباب دل کو چھوتی ہے یہ کس کے پیرہن کی سرسراہٹ گنگناتی ہے مری آنکھوں میں کس کی شوخیٔ لب کا تصور ہے کہ جس کے کیف سے آنکھوں میں میری نیند آتی ہے سکوت اور شانتی کے ہر قدم پر پھول ...

مزید پڑھیے

آج کی رات نہ جا

رات آئی ہے بہت راتوں کے بعد آئی ہے دیر سے دور سے آئی ہے مگر آئی ہے مرمریں صبح کے ہاتھوں میں چھلکتا ہوا جام آئے گا رات ٹوٹے گی اجالوں کا پیام آئے گا آج کی رات نہ جا زندگی لطف بھی ہے زندگی آزار بھی ہے ساز و آہنگ بھی زنجیر کی جھنکار بھی ہے زندگی دید بھی ہے حسرت دیدار بھی ہے زہر بھی آب ...

مزید پڑھیے

قید

قید ہے قید کی میعاد نہیں جور ہے جور کی فریاد نہیں داد نہیں رات ہے رات کی خاموشی ہے تنہائی ہے دور محبس کی فصیلوں سے بہت دور کہیں سینۂ شہر کی گہرائی سے گھنٹوں کی صدا آتی ہے چونک جاتا ہے دماغ جھلملا جاتی ہے انفاس کی لو جاگ اٹھتی ہے مری شمع شبستان خیال زندگانی کی ایک اک بات کی یاد آتی ...

مزید پڑھیے

انتظار

رات بھر دیدۂ نمناک میں لہراتے رہے سانس کی طرح سے آپ آتے رہے جاتے رہے خوش تھے ہم اپنی تمناؤں کا خواب آئے گا اپنا ارمان برافگندہ نقاب آئے گا نظریں نیچی کیے شرمائے ہوئے آئے گا کاکلیں چہرے پہ بکھرائے ہوئے آئے گا آ گئی تھی دل مضطر میں شکیبائی سی بج رہی تھی مرے غم خانے میں شہنائی ...

مزید پڑھیے

اپنا شہر

یہ شہر اپنا عجب شہر ہے کہ راتوں میں سڑک پہ چلئے تو سرگوشیاں سی کرتا ہے وہ لا کے زخم دکھاتا ہے راز دل کی طرح دریچے بند گل چپ نڈھال دیواریں کواڑ مہر بہ لب گھروں میں میتیں ٹھہری ہوئی ہیں برسوں سے کرائے پر

مزید پڑھیے

گگارن

مبارک تجھے او زمیں کے مسافر زمین و زماں کی حدیں توڑ کر آسمانوں پہ جانا ہواؤں سے آگے خلاؤں سے آگے مہ و کہکشاں کی فضاؤں سے آگے مبارک ستاروں کی چلمن ہٹانا سر زلف ناہید کو چھو کے آنا دل ابن آدم کی دھڑکن سنانا مبارک تجھے او زمیں کے مسافر زمین و زماں کی حدیں توڑ کر آسمانوں پہ جانا

مزید پڑھیے

شاعر

کچھ قوس قزح سے رنگت لی کچھ نور چرایا تاروں سے بجلی سے تڑپ کو مانگ لیا کچھ کیف اڑایا بہاروں سے پھولوں سے مہک شاخوں سے لچک اور منڈووں سے ٹھنڈا سایہ جنگل کی کنواری کلیوں نے دے ڈالا اپنا سرمایہ بد مست جوانی سے چھینی کچھ بے فکری کچھ الہڑپن پھر حسن جنوں پرور نے دی آشفتہ سری دل کی ...

مزید پڑھیے

اندھیرا

رات کے ہاتھ میں اک کاسۂ دریوزہ گری یہ چمکتے ہوئے تارے یہ دمکتا ہوا چاند بھیک کے نور میں مانگے کے اجالے میں مگن یہی ملبوس عروسی ہے یہی ان کا کفن اس اندھیرے میں وہ مرتے ہوئے جسموں کی کراہ وہ عزازیل کے کتوں کی کمیں گاہ ''وہ تہذیب کے زخم'' خندقیں باڑھ کے تار باڑھ کے تاروں میں الجھے ہوئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 480 سے 960