شاعری

وطن کی شان

رانی جب اسکول سے آئی امی کو یہ بات بتائی امی جی اسکول میں اپنے خوب ہوئی ہے آج صفائی کونا کونا صاف ہوا ہے صابن سے بھی ہوئی دھلائی ہم نے سندر چارٹ بنائے اور اک اک دیوار سجائی پھولوں کے پودوں سے ہم نے گلشن کی دھرتی مہکائی اس سے بھی بڑھ کر امی بھی اور ہوئی ہے ایک بڑائی وقت پہ میڈم آ ...

مزید پڑھیے

قومی جھنڈا

جنتا کا ارمان ہے جھنڈا آزادی کی جان ہے جھنڈا بھارت کی پہچان ہے جھنڈا اس کی عظمت کے گن گاؤ اور بھی اس کی شان بڑھاؤ اس سے جتنے رنگ عیاں ہیں سب اپنی منزل کے نشاں ہیں اس میں کتنے راز نہاں ہیں اس کی عظمت کے گن گاؤ اور بھی اس کی شان بڑھاؤ جھنڈا ہی توقیر وطن ہے جھنڈا ہی تصویر وطن ہے جھنڈا ...

مزید پڑھیے

انمول رتن

بھارت کا انمول رتن تھے مولانا آزاد سچے ایک محب وطن تھے مولانا آزاد بوئے گل نو رنگ چمن تھے مولانا آزاد ان کے ہی ایثار و عمل سے دیس ہوا آباد بھارت کا انمول رتن تھے مولانا آزاد آزادی کا خواب دکھایا اپنے اخباروں سے بیداری کا پاٹھ پڑھایا اپنے اخباروں سے قوم کا اپنی عزم بڑھایا اپنے ...

مزید پڑھیے

ہولی

گلی گلی بازار میں ہو گئی رنگوں کی بوچھار آنچل بھیگے تن من بھیگا گال ہوئے گلنار کتنی امنگیں لے کر آیا ہولی کا تیوہار آیا ہولی کا تیوہار لے کے رنگوں کی بہار منظر ہوئے رنگیلے رنگوں سے غبارے بھر کر بچے چڑھے اٹاری سبزہ سبزہ رنگ میں ڈوبا بھیگی ڈاری ڈاری کوئی نہ بچنے پایا ان سے پنڈت ہو ...

مزید پڑھیے

ہم ہند کے شیدائی

اس دیس کی وادی میں ہر پھول مہکتا ہے ہر قوم کے رہبر کا کردار لہکتا ہے اپنا ہو کہ بیگانہ بلبل سا چہکتا ہے ہر مذہب و ملت نے بھارت میں اماں پائی ہم ہند کے رکھوالے ہم ہند کے شیدائی اک امن و محبت کی تفسیر ہے یہ گلشن ایثار و اخوت کی تصویر ہے یہ گلشن تعمیر و ترقی کی تنویر ہے یہ گلشن ہر گوشۂ ...

مزید پڑھیے

بھارت کا نشان

آؤ منائیں ہم سب مل کر اب جشن آزادی دیس کا جھنڈا اونچا رکھیں ہاتھ بنیں فولادی پورب میں پھر لہرا اٹھا امن و اماں کا پرچم برگ گل پر ناچ رہی ہے موتی جیسی شبنم ندیوں نے پھر چھیڑ دیا ہے آزادی کا سرگم آؤ منائیں ہم سب مل کر اب جشن آزادی دیس کا جھنڈا اونچا رکھیں ہاتھ بنیں فولادی آزادی کی ...

مزید پڑھیے

جشن آزادی

جشن آزادیٔ جمہور منائیں لوگو گوشے گوشے میں مساوات کا چرچا کر دیں کوئی بھوکا نہ رہے کوئی بھی ننگا نہ رہے آج ہر فرد کی انعام سے جھولی بھر دیں اپنے کردار کو اس طرح نکھاریں ہم لوگ دشمن جاں بھی نگاہیں نہ اٹھانے پائے امن کے پھول سے راہوں کو سجا دیں اتنا زخم کانٹوں کا کوئی پاؤں نہ کھانے ...

مزید پڑھیے

پندرہ اگست

اہنسا کی شمشیر چمکی اسی دن غلامی کی زنجیر ٹوٹی اسی دن گلستاں کی تقدیر بدلی اسی دن اٹھو آج خوشیوں کے ہم گیت گائیں چلو اپنی دھرتی کو دلہن بنائیں کھلے کیسے کیسے بھرم دشمنوں کے رہے پھر نہ باقی ستم دشمنوں کے مٹے اس زمیں سے قدم دشمنوں کے اٹھو آج خوشیوں کے ہم گیت گائیں چلو اپنی دھرتی کو ...

مزید پڑھیے

بتاؤ میں کیا ہوں

چمکتا ہوں ہر روز میں آسماں پر دکھاتا ہوں دنیا کو یوں اپنے جوہر نہیں سامنے میرے ٹکتا اندھیرا مرے دم سے ہوتا ہے جگ میں اجالا اشارے سے میرے بدلتے ہیں موسم گہر مجھ پہ اپنے لٹاتی ہے شبنم مرے رب نے توفیق بھی یہ مجھے دی پکاتا ہوں فصلوں کو یعنی تمہاری برستا ہے پانی مری کوششوں سے ہرے جس سے ...

مزید پڑھیے

میرا نام بچو بتاؤ تو جانوں

مرے ساتھ آتی ہیں ٹھنڈی ہوائیں بدلتی ہیں آنے سے میرے فضائیں میں آتی ہوں برسات کے بعد تن کر سلاتی ہوں لوگوں کو کمرے کے اندر میں ہم راہ لاتی ہوں گدے بچھونے پہناتی ہوں ہر ایک کو گرم کپڑے مزے دار میوے کھلاتی ہوں سب کو بڑی گرم چائے پلاتی ہوں سب کو کبھی پیش کرتی ہوں گاجر کا حلوہ کبھی لا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 472 سے 960