بتاؤ میں کیا ہوں
چمکتا ہوں ہر روز میں آسماں پر
دکھاتا ہوں دنیا کو یوں اپنے جوہر
نہیں سامنے میرے ٹکتا اندھیرا
مرے دم سے ہوتا ہے جگ میں اجالا
اشارے سے میرے بدلتے ہیں موسم
گہر مجھ پہ اپنے لٹاتی ہے شبنم
مرے رب نے توفیق بھی یہ مجھے دی
پکاتا ہوں فصلوں کو یعنی تمہاری
برستا ہے پانی مری کوششوں سے
ہرے جس سے رہتے ہیں پیڑ اور پودے
کلی میرے آنے سے کھلتی ہے دل میں
زمانے کو ہے روشنی مجھ سے ملتی
غرض یہ سمجھ لو کہ روشن دیا ہوں
مرے پیارے بچو بتاؤ میں کیا ہوں