شاعری

دیوالی

آئی دوالی آئی دوالی گیت خوشی کے گاؤ اندھیارے کو دور کرو تم گھر گھر دیپ جلاؤ سیتا رام کی راہوں کو اب پھولوں سے مہکاؤ چودہ برس میں لوٹے گھر کو لچھمن سیتا رام آج ہر اک نر ناری کے لب پر ہے انہیں کا نام بازاروں میں لگا ہوا ہے دیوالی کا میلہ کوئی خریدے برتن بھانڈے کوئی شال دوشالا کوئی ...

مزید پڑھیے

خزاں

ہوا چلی نہ گل کھلے ہم دیکھتے ہی رہ گئے بہار میں خزاں ملی اور خزاں بھی جم کے رہ گئی شاخ سے جدا ہو کر پھول کی خوشبو گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے پتیاں بکھر گئیں

مزید پڑھیے

پرواز

تم نے کہا آسمان پر اک ذرا پتھر تو اٹھا کر دیکھو یارو یہ حوصلہ اور ہمت کی نصیحت اٹھا کر تو دیکھا تھا ہم نے بھی یارو بتاؤں تمہیں کیا ہوا یہ پتھر تو مجھ پر ہی آ گرا چوٹ لگی کہاں کہاں لگی کس طرح لگی میں تو لہولہان ہو گئی ہوں اور بے جان بھی ہو گئی ہوں اور اب اک میری بھی سنو ہر مشورے پر عمل ...

مزید پڑھیے

خوشبو کا سفر

یہ خوشبو جسے محسوس کرتے ہی احساس کے تار بجنے لگتے ہیں فاصلے اور دوریاں سمٹ جاتی ہیں کوئی منظر کوئی چہرہ سامنے آ جاتا ہے ان خیالوں کی مسافت میں کوئی وقت لگا نہیں آ جاتا ہے کوئی کمرہ کوئی آنگن اور کوئی فرد بے جھجھک نہ کوئی خوف نہ ڈر اور نہ وہ خونی نظر اس خوشبو کے سفر میں نہ سرحدیں ...

مزید پڑھیے

آدھی غزل

پڑھ کے جغرافیہ سمجھ لیں گے ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے ووٹ لینے کو آئیں گے جھک کر جو نہیں جانتے وفا کیا ہے سر سے پا تک سپردگی کی ادا یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے مارچ اکتس کی لوٹ ہے یارو مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے دستخط کر کے بلینک چیک دے دے اور درویش کی دعا کیا ہے حال قابو میں ہے وہ ...

مزید پڑھیے

ایک فقیر کی دعا

میں مانگنے والا ہوں نکل جاتا ہوں کبھی مندر کبھی مسجد کی طرف گرجا اور گرودوارے کا چکر بھی لگا لیتا ہوں آج شہر کے بڑے میدان میں بڑی سجاوٹ ہے کسی تہوار کے جشن جیسا ماحول ہے ہجوم ہے بھیڑ ہے سامان ہی سامان ہے لوگ کہہ رہے ہیں بڑے منتری آنے والے ہیں چرچا یہ بھی ہے کہ بڑے دین دیالو ...

مزید پڑھیے

چھبیس جنوری

ہر سال جگمگاتی ہے چھبیس جنوری ہر سمت مسکراتی ہے چھبیس جنوری سب کے دلوں کو بھاتی ہے چھبیس جنوری شان وطن دکھاتی ہے چھبیس جنوری جنتا کا دل بڑھاتی ہے چھبیس جنوری ہیں بام و در پہ آج ترنگے لگے ہوئے پھولوں سے چار سمت ہیں رستے سجے ہوئے ہر سو عمارتوں پہ ہیں دیپک جلے ہوئے شان وطن دکھاتی ہے ...

مزید پڑھیے

بچوں کی عید

عید بہت ہی دھوم سے آئی بازاروں میں رونق لائی پہن کے اچھے اچھے کپڑے بچے اپنے گھر سے نکلے کپڑے گوٹے اور پھٹے کے جھلمل کرتے جھم جھم کرتے عید ملن کو پہنچے گھر گھر کتنے خوش تھے باہم مل کر پھینی اور مٹھائی کھائی میٹھی میٹھی عید منائی ملے انہیں عیدی کے پیسے کھیل کھلونے خوب خریدے جا کر ...

مزید پڑھیے

باپو

شہرت ہے تیری باپو ہر سو مرے وطن میں تیرا ہی تذکرہ ہے دنیا کی انجمن میں تو پھول بن کے مہکا کچھ اس طرح چمن میں خوشبو سما گئی ہے افسردہ جان و تن میں تو صدر انجمن ہے تو نازش وطن ہے تو رنگ دلبری ہے تو نکہت چمن ہے تجھ کو تھی مثل ایماں اپنے وطن سے الفت اخلاق سے مٹائی تو نے بنائے نفرت مذہب ...

مزید پڑھیے

راکھی

اس کے دھاگوں میں دل کے خزانے نہاں اس کے پھولوں میں دریائے الفت رواں یہ بہن بھائی کی چاہتوں کا نشاں یہ ہے راکھی کا بندھن مرے بھائیو اس کی تصویر میں ہے عجب بانکپن اس کی تاریخ میں ایکتا کا چلن اس کی عظمت کا قائل ہے سارا چمن یہ ہے راکھی کا بندھن مرے بھائیو صرف بندھن نہیں ایک پیمان ...

مزید پڑھیے
صفحہ 471 سے 960