پندرہ اگست

اہنسا کی شمشیر چمکی اسی دن
غلامی کی زنجیر ٹوٹی اسی دن
گلستاں کی تقدیر بدلی اسی دن
اٹھو آج خوشیوں کے ہم گیت گائیں
چلو اپنی دھرتی کو دلہن بنائیں
کھلے کیسے کیسے بھرم دشمنوں کے
رہے پھر نہ باقی ستم دشمنوں کے
مٹے اس زمیں سے قدم دشمنوں کے
اٹھو آج خوشیوں کے ہم گیت گائیں
چلو اپنی دھرتی کو دلہن بنائیں
اسی دن کی خاطر بڑے غم اٹھائے
زمیں آسماں کے قلابے ملائے
ذرا بھی نہ اپنے قدم ڈگمگائے
اٹھو آج خوشیوں کے ہم گیت گائیں
چلو اپنی دھرتی کو دلہن بنائیں
یہ وہ دن ہے ہم جس کی برکت کو سمجھیں
یہی دن ہے وہ جس کی قیمت کو سمجھیں
یہی دن ہے وہ جس کی عظمت کو سمجھیں
اٹھو آج خوشیوں کے ہم گیت گائیں
چلو اپنی دھرتی کو دلہن بنائیں
ترنگے کو ہم اور اونچا اٹھا دیں
چراغوں سے ہر بام و در کو سجا دیں
زمانے کو یہ سر خوشی بھی دکھا دیں
اٹھو آج خوشیوں کے ہم گیت گائیں
چلو اپنی دھرتی کو دلہن بنائیں