بھارت کا نشان

آؤ منائیں ہم سب مل کر اب جشن آزادی
دیس کا جھنڈا اونچا رکھیں ہاتھ بنیں فولادی
پورب میں پھر لہرا اٹھا امن و اماں کا پرچم
برگ گل پر ناچ رہی ہے موتی جیسی شبنم
ندیوں نے پھر چھیڑ دیا ہے آزادی کا سرگم
آؤ منائیں ہم سب مل کر اب جشن آزادی
دیس کا جھنڈا اونچا رکھیں ہاتھ بنیں فولادی
آزادی کی خاطر دی ہے ہم سب نے قربانی
ابوالکلام اور نہرو جیسے نیتا تھے لا ثانی
ان کے عزم کے آگے ہو گئے دشمن پانی پانی
آؤ منائیں ہم سب مل کر اب جشن آزادی
دیس کا جھنڈا اونچا رکھیں ہاتھ بنیں فولادی
ماضی کے غم آج بھلا کر مستقبل چمکائیں
آپس کے سب بھید مٹا کر پیار کے نغمے گائیں
گنگ و جمن کی اس دھرتی کو پھولوں سے مہکائیں
آؤ منائیں ہم سب مل کر اب جشن آزادی
دیس کا جھنڈا اونچا رکھیں ہاتھ بنیں فولادی