شاعری

مرا نام بچو بتاؤ تو جانوں

مرے ساتھ آتی ہیں ٹھنڈی ہوائیں بدلتی ہیں آنے سے میری فضائیں میں آتی ہوں برسات کے بعد تن کر سلاتی ہوں لوگوں کو کمرے کے اندر میں ہم راہ لاتی ہوں گدے بچھونے پہناتی ہوں ہر ایک کو گرم کپڑے مزے دار میوے کھلاتی ہوں سب کو بڑی گرم چائے پلاتی ہوں سب کو کبھی پیش کرتی ہوں گاجر کا حلوہ کبھی لا ...

مزید پڑھیے

محنت

ارے پیارے بچو ذرا دھیان دو مری بات کو غور سے تم سنو یہ بستی یہ بازار سڑکیں تمام مشینوں کی بڑھتی ہوئی دھوم دھام یہ موٹر یہ ریلیں یہ نہروں کے حال کرشمے یہ بجلی کے دن کی مثال یہ سر سبز کھیتی یہ سوداگری زمانے کی چیزیں یہ اچھی بری کتابوں کے انبار یہ علم و فن یہ غنچے شگوفے چمن در ...

مزید پڑھیے

چناب ندی کا قصیدہ

سر شور, چناب اوتار مرے مرے موہن ساگر سیارے تری گھوکر جیون کا سرگم تری لہر لہر برہم برہم جب اتروں کھول کے پیراہن ترے پانی گلے ملیں مجھ سے تری ٹھنڈک سینے ساون کے تری مہک محبت کی برکھا ترے جل تھل جل تھل منظر سے مری رانوں میں گدگدی سی ہو مرے تلووں میں دو پھول کھلیں مرے سوہن ساگر ...

مزید پڑھیے

سکرات موت میں پانی کا خواب

یوں مری قبر بنا جیسے شبستان نشاط موت کا جشن منا فرش شبنم پہ بچھا لال گلابوں کی بساط خالی طاقوں پہ سجا زرد شرابوں کے ظروف وا دریچوں پہ بصد ناز و ادا ٹانکنے آ بھینی خوشبو کے دھنک رنگ حریری پردے ابھی کچھ دیر ٹھہر بانو ابھی دف نہ بجا نہ اٹھا سوئی ہوئی کلیوں کے گھونگٹ نہ اٹھا موت اگر ...

مزید پڑھیے

میرے آسمان کے چاند کو خبر دو

عجیب الجھن سی رہا کرتی ہے ان دنوں مجھ کو میرے آسمان کے چاند کو خبر دو یوں ہی دیر تک رات رات بھر جاگتی ہوں تارے گنتی ہوں یادیں جمع کرتی ہوں اور صبح ہونے تک سب بھول جاتی ہوں بے کار سوچیں گھیرے رہتی ہیں ہمہ وقت مجھ کو میرے آسمان کے چاند کو خبر دو سوٹ پسند کرنے دکان پر جاتی ہوں بہت سے ...

مزید پڑھیے

ہم کو آگہی نہ دو

ہم جیسے جی رہے ہیں ہم کو ویسے جینے دو یہ جو آگہی کے دکھ ہوتے ہیں وہ روح کو زخمی کر دیتے ہیں اور اب تک صرف جسموں کے علاج کی ریسرچ ہوئی ہے اور وہ ریسرچ بھی کیا کہ ڈاکٹرز ایک مرض درست کر کے دوسرا مرض اگا دیتے ہیں یہ جو آگہی ہے یہ تو ناسور سے بھی بد تر ہے یہ تو ہنستے بستے انسان کو رلا ...

مزید پڑھیے

میں

روز بنتی ہوں روز ٹوٹتی ہوں میں سنورنے کی خواہش میں روز بگڑتی ہوں

مزید پڑھیے

کاش

میں آگہی کے اس بھیانک دور سے گزر رہی ہوں جہاں تمام لفظ کھوکھلے اور بے معنی لگتے ہیں جہاں تمام سچ جھوٹ لگتے ہیں جہاں انسانوں کے نقاب میں شیطان دکھائی دے جاتے ہیں جہاں ہر بات اوپری اور بے مقصد سی لگتی ہے جہاں ہر رشتہ مطلبی اور خود غرض دکھائی دیتا ہے کاش ایک بار پھر سے دنیا حسین نظر ...

مزید پڑھیے

اکیسویں صدی کا عشق

مجھے اور تمہیں کوئی ڈر نہیں نہ کوئی وعدہ وفا کرنا ہے نہ کوئی امید چراغ جلانا ہے ایک شادی تھی فرسودہ رسم زمانے کی وہ مرحلہ بھی طے کر چکے ہم اپنی اپنی جگہ ہم کتنے مطمئن ہیں اب ملنے بچھڑنے کا عذاب ہے کب اب جستجو وصال کیسا اب لذت لمس کی کسے تمنا نہ زمانے کی فکر نہ لوگوں کا خوف ہم ان ...

مزید پڑھیے

تعارف

یہ میں ہوں میں جیسے آپ آپ ہیں میں پیدا ہوتے ہی الجھن میں ہوں اگر میں عشق ہوں تو فنا کیوں نہیں ہو جاتی میں سمندر کی بیتاب لہر ہوں تو بہہ کیوں نہیں جاتی میں رقص جنوں میں ہوں تو دیوانگی سر کیوں نہیں چڑھتی بے چین روح ہوں تو جسم سے نجات کیوں نہیں پاتی میں ڈرتی ہوں انسانی اشکال میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 473 سے 960