بھوت
تھا کچھ روز پہلے مرا بیل کھویا اسی فکر میں میں نہ اس رات سویا اسے ڈھونڈھنے منہ اندھیرے میں نکلا ادھر اس کو ڈھونڈا ادھر اس کو ڈھونڈا تلاش اس کو کرتا ہوا میں چلا تھا سمٹ آیا تن میں بس اک زلزلہ سا مرے سامنے بھوت آیا اچانک بڑا خوفناک اور بڑا ہی بھیانک پھنسی حلق میں چیخ پتھر تھے ...