نا بینا لوگوں کی زبان

بے چارے نا بینا لوگ
چڑھ لیں علم کا زینہ لوگ


منہ ان سے کیوں موڑیں ہم
علم سے ان کو جوڑیں ہم


بات نہ ہم یہ جائیں بھول
ان کے الگ سے ہیں اسکول


لوگ وہاں یہ پڑھتے ہیں
علم کے زینے چڑھتے ہیں


ان کا وہاں ہے اپنا نصاب
اپنی کتابیں اپنا حساب


ان کی زباں کا نام بریل
جیسے انوکھا کوئی کھیل


نا بینا لوگوں کی زبان
اپنی الگ اس کی پہچان


خط بھی نہایت ہے مخصوص
انگلیوں سے کر کے محسوس


لیتے ہیں مفہوم وہ جان
واہ رے مالک تیری شان