اقبال ایک کتاب

دوستو انگریز نے اقبال کو
دینا چاہا جس گھڑی سر کا خطاب
شاعر مشرق نے ان سے یوں کہا
میں اسے ایسے نہیں لوں گا جناب
ہیں میرے استاد علم و فضل میں
بے مثال و بے نظیر و لا جواب
پہلے یہ اعزاز ان کو دیجئے
شوق سے پھر اس کو میں لوں گا جناب
بولا یوں انگریز کہ لکھی نہیں
آپ کے استاد نے کوئی کتاب
صاحب تصنیف جب تک وہ نہ ہوں
دے نہیں سکتے انہیں سر کا خطاب
بولے اقبال آپ نے دیکھی ہے کیا
مجھ سے بڑھ کر بھی کہیں کوئی کتاب
مانی آخر شاعر مشرق کی بات
رہ گیا انگریز ہو کے لا جواب