زندگانی کا خلا
زندگانی کا خلا یہ نہ بھر پایا کبھی لالہ و گل کو کبھی پیار کیا رات بھر تاروں کو بیدار کیا کم نہ ہوتی تھی مگر دل کی کسک دل کا غم آنکھوں سے برسایا کبھی یہ نہ بھر پایا کبھی زندگانی کا خلا بھر لیا اس میں کبھی درد چمن کبھی بے نام مقاصد کی لگن جن سے احساس بھی جاتا تھا بہک شیشۂ دل کو بھی ...