شاعری

زندگانی کا خلا

زندگانی کا خلا یہ نہ بھر پایا کبھی لالہ و گل کو کبھی پیار کیا رات بھر تاروں کو بیدار کیا کم نہ ہوتی تھی مگر دل کی کسک دل کا غم آنکھوں سے برسایا کبھی یہ نہ بھر پایا کبھی زندگانی کا خلا بھر لیا اس میں کبھی درد چمن کبھی بے نام مقاصد کی لگن جن سے احساس بھی جاتا تھا بہک شیشۂ دل کو بھی ...

مزید پڑھیے

وادئ گل

دید ہی دید ہے اے عمر رواں کچھ بھی نہیں یہ جہاں کتنا حسیں ہے یہ جہاں کچھ بھی نہیں یہ تبسم یہ تکلم یہ تماشا یہ نگہ یوں تو سب کچھ ہے یہاں اور یہاں کچھ بھی نہیں تیرے ابرو سے سوا وہ نگہ‌ تشنۂ خوں تیر جب نکلا کماں سے تو کماں کچھ بھی نہیں عمر کے فاصلے طے کر نہ سکا جذبۂ شوق خون دل کچھ بھی ...

مزید پڑھیے

ایک کہانی

رات کل فضاؤں میں تیری ہی کہانی تھی ہم بھی سننے والے تھے دل کی پاسبانی تھی آسماں سے آمد تھی گم شدہ خیالوں کی جس قدر تصور تھا اتنی شادمانی تھی دور ساری دنیا سے اک نگر بسایا تھا اس کا ایک راجا تھا اس کی ایک رانی تھی زلف و رخ کی باتیں تھیں دن تھا اور راتیں تھیں صبح کتنی رنگیں تھی ...

مزید پڑھیے

نظم کی شاعرہ

جس کے شعروں کی لڑیاں۔۔۔ محبت کے ماتھے کا سنگھار تھیں جس کے بے تاب جذبوں کی میٹھی کسک لطف کی داستانوں کا عنوان تھی جو گلابی رتوں کا مہکتا ہوا سرخ پیمان تھی آج خاموش ہے۔۔۔ نفرتوں کے الاؤ سے اٹھتا دھواں زرد شاموں کے اس ماتمی عہد کو۔۔۔ دے گیا ہے سلگتے لہو کی ہمک پھول کا عشق پیشہ ...

مزید پڑھیے

سہیلی

ہوا کی سرمئی رتھ پر مدھر، دھیمے سروں میں بولتی بارش مرے وجدان کا پہلا جزیرہ ہے وہ اکثر رات کے پچھلے پہر کوئی پرانا گیت گاتی ہے مرے تن کی پیاسی ریت میں خوشبو ملاتی ہے کبھی اپنی مہکتی نرم پوروں سے مرا شانہ ہلاتی ہے مری نظموں کے مصرعوں میں ترنم چھوڑ جاتی ہے وہ گونگے دیس کی ویران ...

مزید پڑھیے

پیر مغان اردو

سونا سونا سا ہے کیوں آج جہان اردو اٹھ گیا کہتے ہیں اک پیر مغان‌ اردو جس کو ڈھونڈیں گے سدا تشنہ لبان تحقیق روئیں گے برسوں جسے دیدہ وران اردو راہ رو رہ گزر و رہبر اردوئے قدیم ورنہ ملتا تھا کسے نام و نشان اردو چھن گئی اہل وطن ایک متاع تحقیق اے دکن لٹ گئی پھر تیری دکان اردو آخری ...

مزید پڑھیے

وادئ گل

دید ہی دید ہے اے عمر رواں کچھ بھی نہیں یہ جہاں کتنا حسیں ہے یہ جہاں کچھ بھی نہیں یہ تبسم یہ تکلم یہ تماشا یہ نگہ یوں تو سب کچھ ہے یہاں اور یہاں کچھ بھی نہیں تیرے ابرو سے سوا وہ نگہ‌ تشنۂ خوں تیر جب نکلا کماں سے تو کماں کچھ بھی نہیں عمر کے فاصلے طے کر نہ سکا جذبۂ شوق خون دل کچھ بھی ...

مزید پڑھیے

سخن واپسیں

دوا سے کچھ نہ ہوا اور دعا سے کچھ نہ ملا بشر نے کچھ نہ دیا اور خدا سے کچھ نہ ملا زوال میرا مقدر بنا کے چھوڑ دیا مجھے خیال و حدیث بقا سے کچھ نہ ملا میں درد‌ و داغ یتیمی میں یوں رہا محصور پدر سے کچھ نہ ملا مامتا سے کچھ نہ ملا جہان علم و ہنر میں تو سرفراز رہا دیار شوق میں میری وفا سے ...

مزید پڑھیے

مشک والا ہرن

اپنی دنیا کا سب سے نرالا ہرن اتراکھنڈ کا بھولا بھالا ہرن یہ ہرن ہے مگر ہے ذرا مختلف اس کا قصہ ہے جادو بھرا مختلف سب سے عمدہ ہرن سب سے عالی ہرن اپنی دنیا کا سب سے نرالا ہرن درمیاں آپ کے ہم کریں انکشاف مشک سے اس کی قدرت نے بھر دی ہے ناف لال تھوڑا ہے اور تھوڑا کالا ہرن اپنی دنیا کا ...

مزید پڑھیے

نقلی شیر

اک گدھے کو ملی جو شیر کی کھال اس کے دل میں عجب یہ آیا خیال میں جہاں چاہوں ڈال دوں ڈیرا سارے جنگل پہ راج ہو میرا پہن کر کھال شیر بن بیٹھا جانور وہ دلیر بن بیٹھا اس سے ڈرتے تھے جانور سارے جان جاتی تھی خوف کے مارے ایک ایسا بھی دن مگر آیا اک گدھا پاس آ کے چلایا بھول کر پھر تو شیر کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 469 سے 960