اشتراک
خیر اچھا ہو تم بھی میرے قبیلے میں آ ہی گئے اس قبیلے میں کوئی کسی کا نہیں ایک غم کے سوا چہرہ اترا ہوا بال بکھرے ہوئے نیند اچٹتی ہوئی خیر اچھا ہوا تم بھی میرے قبیلے میں آ ہی گئے آؤ ہم لوگ جینے کی کوشش کریں
خیر اچھا ہو تم بھی میرے قبیلے میں آ ہی گئے اس قبیلے میں کوئی کسی کا نہیں ایک غم کے سوا چہرہ اترا ہوا بال بکھرے ہوئے نیند اچٹتی ہوئی خیر اچھا ہوا تم بھی میرے قبیلے میں آ ہی گئے آؤ ہم لوگ جینے کی کوشش کریں
گلہ ہے کم نگہی کو میں کامگار نہیں ہنوز ندرت کردار آشکار نہیں مرا وہ سوز ہے نا محرموں میں بے تعبیر مہ و ستارہ کو جس کے لیے قرار نہیں مرا سکوت جواب آئنہ ہے ان کے لیے وہ جن کی رائے میں دیوانہ ہونہار نہیں نہیں ہے کوئی درخشندہ برق جس کی مثال مشابہ جس کے کوئی گہر آبدار نہیں سزائے ...
غیروں کا تو کہنا کیا محرم سے نہیں کہتا میں عالم غم اپنا عالم سے نہیں کہتا پڑھ لیتی ہیں کیفیت کچھ تڑپی ہوئی نظریں دکھ اپنا میں ہر چشم پر نم سے نہیں کہتا رہ گیر ہوں میں ایسا ہر خم سے گزرتا ہے دعوت پہ جو رندان خرم سے نہیں کہتا موسم ہمہ گردش ہے پس ماندۂ گردش میں لب تشنہ کوئی یہ شے کیوں ...
چلو یوں سہی میرا دل دل نہیں تھا وفا کا لہو اس میں شامل نہیں تھا یہ سچی محبت کا حامل نہیں تھا تمہاری پرستش کے قابل نہیں تھا یہ بہتر ہے اب تم مجھے بھول جاؤ غضب کی تھی اف وہ ملاقات پہلی جب اک کم زباں سے تھی کی بات پہلی وہ ہلکی سی بوندیں وہ برسات پہلی خدا جانے کیسی تھی وہ رات پہلی یہ ...
کوئی شاخ تشنہ و خشک جس سے ہری نہ ہو وہ سحاب کیا جو چھلک کے رنگ نہ بھر سکے رگ و ریشہ میں وہ شباب کیا دل گم شدہ کو میں ڈھونڈنے کہیں شب کو محو جنوں چلا تو صدا سی آئی یہ سینہ سے کہ تلاش خانہ خراب کیا طرب آفریں سہی رت کبھی ملے بار سوز کو ساز میں نہ تنوع اتنا بھی جس کی طرز نوا میں ہو وہ رباب ...
کیوں کہئے کسی سے کہ ہمیں کوئی پلائے قسمت میں اگر مے نہیں مل جائے گی چائے صہبا نہ ہو شبنم سہی چائے ہو کہ زہراب شے بس وہی جو غم زدہ کے غم کو بھلائے پینے کا سلیقہ ہو تو بے مول بھی پی لیں ویرانہ بھی ہو کیف گہ صحرا بھی سرائے ساقی کو ہے بے جنبش لب تشنہ لبی شاق کیوں ساقی گری کے کوئی یوں ناز ...
حسن کو بد گمان رہنے دے راز دل راز دان رہنے دے نگۂ نیم کش کی عمر دراز نوبت اک درمیان رہنے دے حسرت عنفوان راز و نیاز روح پر حکمران رہنے دے عشق کی کائنات ہے حرماں آرزو کا زیان رہنے دے نقش نا کندہ کے تصور کا یہ مٹا سا نشان رہنے دے قسمت عشق تو ہے قسمت عشق بارے منت کی شان رہنے دے نا سزا ...
مرا جسم تحلیل غم ہو چکے جب تو بن جائے خوں گشتۂ فریاد یا رب وہ انگڑائی لے پھر تڑپ کر قفس میں سحر بن کے ہو جائے شق ہر تہ شب گریبان مشرق کی روداد لے کر پہنچ جائے تا بام سرکار یثرب
نطق کا اعجاز ہے اردو زباں وقت کی آواز ہے اردو زباں جس میں سر ہیں مختلف بھاشاؤں کے وہ انوکھا ساز ہے اردو زباں یہ زباں کے ساتھ ہے تہذیب بھی قابل صد ناز ہے اردو زباں مائل پرواز ہے اس کا ادب منزل پرواز ہے اردو زباں قومی یکجہتی سے جو پیدا ہوئی وہ حسیں آغاز ہے اردو زباں گیتا اور ...
گرد سے اٹی ہوئی خون سے بھری ہوئی زخم خوردہ اور شکستہ روح کو اپنے بستے میں چھپائے کب تلک تم رکھ سکو گے خواب آور گولیوں سے طاقت رفتار لے کر ہوش سے آنکھیں بچا کر کب تلک چلتے رہو گے ایک دن تو موڑ ایسا آئے گا جب اپنے بستے میں چھپی یہ نا مکمل روح خون اپنا وجود تم سے واپس مانگ لے گی اس گھڑی ...