بچوں کی عید

عید کے دن کچھ چھوٹے بچے
بھولے بھالے سیدھے سادے
ایک جگہ پر آ کر بیٹھے
اپنی جانچ لگے سب کرنے
آپس میں یوں بولے بچے
کس نے کتنے روزے رکھے
سب سے پہلے بولا دارا
میں نے رکھے پورے بارہ
صفو بولی میرے تیرہ
تم سے ایک زیادہ رکھا
بانو بولی میرے چھ ہیں
بھائی دارا سے آدھے ہیں
ہوں بھی تو میں چھوٹی ان سے
اسی لیے کم روزے رکھے
یوں ہی تھے سب کہتے جاتے
اپنے روزے گنتے جاتے
سنتا تھا سب بیٹھا منا
سوچ کے یوں وہ سب سے بولا
میں نے بھی رکھے ہیں روزے
تم سب سے ہیں زیادہ میرے
سب بولے تم نے کب رکھے
وہ بولا میں نے سب رکھے
اک اک دن میں دو دو روزے
صفو میرے گنو تو روزے
منا کی یہ باتیں سن کر
خوب ہنسے خوش ہو کر بچے
عید تو سچ مچ بچوں کی ہے
یا پھر روزہ داروں کی ہے