وہی میں ہوں وہی میری کہانی ہے
وہی قصہ مرے دل کا دل وحشت زدہ پر بادلوں کی طرح اس امڑے ہوئے بے نام موسم کا کہ جو بے نام تو تھا ہی کئی برسوں سے بے معنی بھی ہو کر رہ گیا ہے اور یہ میں نے اس لیے لکھا ہے کیوں کہ میں نے اس کے معنی بے حد معذرت کے ساتھ اب تک کمپیوٹر کے زمانے کے کسی زرخیز تر دل کے لغت میں بھی نہیں دیکھے مرے ...