شاعری

پیام عمل

گر قوم کی خدمت کرتا ہے احسان تو کس پر دھرتا ہے کیوں غیروں کا دم بھرتا ہے کیوں خوف کے مارے مرتا ہے اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے جو عمریں مفت گنوائے گا وہ آخر کو پچھتائے گا کچھ بیٹھے ہاتھ نہ آئے گا جو ڈھونڈے گا وہ پائے گا تو کب تک دیر لگائے گا یہ وقت بھی آخر جائے ...

مزید پڑھیے

مسئلہ یہ نہیں

نہیں مسئلہ یہ نہیں یہ کوئی دکھ نہیں سو مصائب یہ بے سمتیاں جسم اور روح کی بے کلی درد اپنے پرائے کئی مشترک سوچ کی دوزخیں جنگ ایٹم ہوں کی وغیرہ وغیرہ کوئی دکھ نہیں دکھ تو یہ ہے کہ میں ساتھ اپنے دکھوں کا جو سرمایہ لایا تھا وہ ختم ہوتا نہیں

مزید پڑھیے

میں اس سے نفرت (محبت) کرتا ہوں

میں اس سے نفرت کرتا ہوں کیونکہ وہ مجھ سے ویسی محبت نہیں کرتا جیسی محبت میں اس سے کرتا ہوں وہ مجھ سے محبت کرتا ہے کیونکہ میں اس سے ویسی نفرت نہیں کرتا جیسی نفرت وہ مجھ سے کرتا ہے

مزید پڑھیے

اک کہانی سنوگی

رات جنگل گھنا وہ گرجتی ہوا دو درختوں کی کونپل بھری ڈالیاں ایک سے ایک اس طرح ٹکرا گئیں جیسے برسوں جدائی میں جلتے بدن بات پوری سنو تم تو شرما گئیں آگ پیدا ہوئی پیڑ جلنے لگے شور برپا ہوا ہر طرف دھواں ہی دھواں اور پھر نہ پوچھو کہ پھر کیا ہوا راکھ کے ڈھیر کو اب مناسب نہیں چھیڑنا

مزید پڑھیے

با خبری

سکوت آب میں اک بے خبر مچھلی کسی بے مہر کانٹے کو نگل کر جوں ہی سطح آب سے ادھر اٹھ آتی ہے تڑپتی ہے تو اس کے ساتھ کی ہر با خبر مچھلی سمجھتی ہے کہ اس کے ایک ساتھی کو کسی دیوانگی نے آ دبوچا ہے

مزید پڑھیے

کھوٹے سکے

کہتے ہیں کھوٹے سکے بازار میں ہمیشہ نہیں چلتے ہم دیکھتے ہیں کھوٹے سکے ہمیشہ بازار میں چلتے رہتے ہیں کھوٹے سکوں کے لئے ہمیشگی کی تعریف شاید مختلف ہے

مزید پڑھیے

تلاش فریب مطلق کی

فاحشہ عورتو کیا کوئی تم میں ایسا نہیں جو مجھے اس طرح چھل سکے میں نشاط گماں کے سرور عجب جاوداں کو لئے نرم آغوش سے سخت آغوش تک ایک برحق سفر کروں فاحشہ عورتو وہ قریب مسلسل کی دولت کہاں سے ملے کیا کوئی تم میں ایسا نہیں مجھ سے جو جھوٹ کو سونگھ لینے کی خو چھین لے جستجو چھین لے

مزید پڑھیے

سچے موتی

بازار میں نقلی موتیوں کی بہتات ہے تو کیا ہوا تم سچے موتیوں کا بھاؤ نہ گراؤ کسی کے آنسوؤں کا مذاق نہ اڑاؤ خواہ وہ خیر جانے دو کون جانے کب کوئی سچ مچ رو رہا ہو

مزید پڑھیے

نظم

وہ سب بھیڑیے ہیں مگر جانتے بوجھتے غول در غول بھیڑیں خون اپنا پلانے انہیں جا رہی ہیں تو جائیں شب ہی انہیں روکنا ہے یہ منظر مجھے دیکھنا ہے یہ کیسا مزا ہے

مزید پڑھیے

اے ہوا شور کر

ان معمر درختوں کے قلعے میں بھگدڑ مچا دیودار کی شاخوں پہ شب خون مار اور خواہش کے پتوں کے قالین پر ایسا اودھم مچا جو رگوں میں ٹھٹھرتے ہوئے خون کو گرم کر دے خیالوں کی تہ دیگ کو اتنا کھولا کہ برفانی تودوں سے چنگاریاں پھوٹ نکلیں دلوں اور ذہنوں کے مابین کھینچی ہوئی خشک تاروں پہ باندھے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 457 سے 960