شاعری

وہ بچھڑا ہے تو یاد آیا

وہ بچھڑا ہے تو یاد آیا وہ اکثر مجھ سے کہتا تھا محبت وہ نہیں ہے جو یہ نسل نو سمجھتی ہے یہ پہروں فون پر باتیں یہ آئے دن ملاقاتیں اگر یہ سب محبت ہے تو تف ایسی محبت پر محبت تو محبت ہے وصال و وصل کی خواہش سے بالاتر کہا کرتا محبت قرب کی خواہش پہ آئے تو سمجھ لینا ہوس نے سر اٹھایا ہے ہوس کیا ...

مزید پڑھیے

انتخابات

انقلابات ہونے والے ہیں انتخابات ہونے والے ہیں جیسے حالات تھے کبھی پہلے ویسے حالات ہونے والے ہیں بھائی بھائی میں باپ بیٹے میں اختلافات ہونے والے ہیں زیر دستوں کے زور دستوں سے ایک دو ہات ہونے والے ہیں بر سر عام راز کھلتے ہیں انکشافات ہونے والے ہیں جلسہ گاہوں میں ماہ پاروں ...

مزید پڑھیے

شام کا اخبار

دینا بھائی ہاں مجھے بھی شام کا اخبار ایک پھر کسی ٹھنڈے لہو نے گرم کی ہوگی خبر کون سے بیٹے ہوئے ہیں اسٹکاٹو کی نذر آج کی شہ سرخیوں میں خون ناحق پھر ملا تازہ تازہ زرد کاغذ پر گل احمد کھلا کس گلی ماتم بچھا ہے کیا سروں کا ہے شمار آٹھ کالم کی خبر کے واسطے ہیں صرف چار؟ خاک میں لتھڑی ہوئی ...

مزید پڑھیے

محافظ

جو تیری نیندوں کو جاگتا تھا جو تیری کھانسی کو کھانستا تھا جو تیری بارش کو بھیگتا تھا جو تیری سردی کو ہانپتا تھا جو اپنے حصے کے سارے لقمے تجھے کھلا کے ڈکارتا تھا جو اپنے ہاتھوں کے سخت چھالے چھپا کے تجھ کو دلارتا تھا جو اپنے کپڑوں میں تیرے کپڑے کے ناپ رکھ رکھ کے ناپتا تھا جو تیرے ...

مزید پڑھیے

میں نہیں چاہتا

میں نہیں چاہتا کوئی بچہ ریل گاڑی کا فرش صاف کرے نٹ کی رسی پہ اب نظر آئے جسم کو موڑنے کا فن سیکھے شیر کے منہ میں ہاتھ کو ڈالے تپتے بھٹوں کی اینٹ کو ڈھوئے ہوٹلوں اور شراب خانوں کی اپنے دامن سے میز صاف کرے سانپ کو رکھ کے اک پٹارے میں شاہراہوں پہ بھیک بھی مانگے ناچ گانے سے سب کو خوش کر ...

مزید پڑھیے

ندامت

ہم جو اک جاں کے سفر پر ہیں رواں برسوں سے ہم کو معلوم نہیں کب اور کہاں ختم ہو یہ ہم تو بس تشنہ دہن لب بہ دعا کشتۂ غم اپنے ہونے ہی میں گم پڑھ نہ سکے ہیں اب تک وقت کے باب ندامت میں نہاں تحریریں ان کو پڑھ لیتے تو شاید نہ یوں حیراں ہوتے اک تماشے کی طرح وقت پہ عریاں ہوتے اپنی خواہش کو سر ...

مزید پڑھیے

نسیم سحر

کس ناز کس ادا سے نسیم سحر چلی بو کی طرح رواں ہوئی مثل نظر چلی باغوں کا رخ کیا تو گراتی ثمر چلی شبنم کی پتیوں کو لٹاتی گہر چلی پھولوں کے جام بادۂ‌ مستی سے بھر چلی اہل چمن کو خواب سے بیدار کر چلی روئے چمن کو دیکھ کے زینت مچل پڑی سبزے کو چھیڑ چھاڑ کے لہرا کے چل پڑی تختے گلوں کے چشم زدن ...

مزید پڑھیے

بسنت کی آمد

پھر نظر آتی ہے سبزے کی فضا میں دور تک اور خوشبو سے مہکتی ہیں ہوائیں دور تک جاتی ہیں قمری و بلبل کی صدائیں دور تک نیچے اوپر آگے پیچھے دائیں بائیں دور تک ہیں ترنم ریز یکسر شاخ و برگ و بار آج بن گیا ہے ریشہ ریشہ تار موسیقار آج گلشنوں میں ہیں عروسان‌‌ بہار آراستہ گلبن و نخل و نہال و ...

مزید پڑھیے

اڑنے والے پھول

آؤ دکھلائیں اڑنے والے پھول اس چمن میں ہیں یہ نرالے پھول کوئی سبز اور کوئی گلابی ہے آتشی کوئی کوئی آبی ہے کوئی نیلا ہے اور کوئی پیلا جس کو دیکھو غضب کا رنگیلا چھڑکی قدرت نے ان پر افشاں ہے آنکھ صنعت پہ ان کی حیراں ہے پتیاں دو ہیں کائنات ان کی حد سے بڑھ کر مگر صفات ان کی گھاس پر دیکھو ...

مزید پڑھیے

ٹافی اور مٹھائی

بازار سے لوٹ آئے ابا بھی اور امی بھی منی کے لیے لائے ٹافی بھی مٹھائی بھی بارات بھی نکلی تھی بریانی بھی پکی تھی کس دھوم سے کی ہم نے کل گڈے کی شادی بھی استاد کی فطرت میں نرمی بھی ہے سختی بھی وہ پیار بھی کرتے ہیں کرتے ہیں پٹائی بھی اب ڈیڈی بھی اور امی بھی پڑھتے ہیں مزے لے کر مرغوب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 459 سے 960